تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Jo janwar Qabrastan me bandha jai us ka dood aur gushat khana halal hai ya haram?______جو جانور قبرستان میں باندھا جائے اس کا دودھ اور گوشت کھانا حلال ہے یا حرام؟

0

Jo janwar Qabrastan me bandha jai us ka dood aur gushat khana halal hai ya haram?

 

جو جانور قبرستان میں باندھا جائے اس کا دودھ اور گوشت کھانا حلال ہے یا حرام؟؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو جانور قبرستان میں چرایاجائے یا قبرستان کی گھاس کھانے کیلئے قبرستان میں باندھ دیاجائے اس جانور کادودھ اور اس کا گوشت حلال ہے یا حرام؟؟ یااسکو بیچ کر جو روپئے حاصل ہوں وہ جائز ہے یاناجائز؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی فقط والسلام ،

المستفتی : محمد احسان رضوی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مذکورہ میں جانور کا دودھ پینا اور اس کا گوشت کھانا اور اس کے خرید وفروخت کے بعد روپے کو تصرف میں لانا جائز کوئی حرج نہیں،کہ اللہ تبارک تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو حلال کیا وہ حلال ہے جس کو حرام کیا وہ حرام ہے مگر جس نے جانور کو قبرستان میں باندھ وہ سخت گناہ گار ہوئے اور وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے توبہ واستغفار کرے کیونکہ لوگوں کا قبرستان میں چلنا و پھیرنا بیل، گائے، بکری،بھینس وغیرہ کا باندھنا یہ سب ناجائز و حرام ہے اس سے مردوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور اس میں اموات مسلمین کی توہین و بے حرمتی بھی ہے اور مردوں کو تکلیف دینا اور ان کی توہین و بے حرمتی سب کے سب ناجائز وحرام ہے۔  

 قرآن مجید میں ہے:"يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبَاتِ مَآ اَحَلَّ اللّـٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ"  ترجمہ: اے ایمان والو! ان ستھری چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ( پارہ7 سورہ مائدہ آیت 87)سنن ابن ماجہ میں ہے : عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لان امشي على جمرة أو سيف أو اخصف نعلي  برجلي احب الي من ان أمشي على قبر مسلم. ترجمہ: نبی کریم صلی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے آگ کے انگارے پر یا تلوار پر یا اپنے جوتے کو اپنے پاؤں کے ذریعے سی لوں اس پر چلنا زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں( ج2 ماجاء فی النہی عن المشی علی القبر والجلوس علیہا صفحہ 780)۔  

رد المحتار میں ہے : كره وطي القبر و القعود أو النوم أو قضاء الحاجة عليه. ترجمہ : قبر پر وطی اور بیٹھنا اور سونا اور قضائے حاجت کرنا اس پر مکروہ ہے (ج3 مطلب فی اہداء ثواب القرأة للنبي صلى الله عليه وسلم صفحہ 153) فتاویٰ ہندیہ میں ہے:  ويكره ان يبني على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه أو يقضي حاجة الانسان من بول أو غائط( ج1 الفصل السادس فی القبر و الدفن صفحہ 166)۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔
*15 / ذی الحجہ 1441ھ*
*6/اگست 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad