مسجد سے دوسرے کی چپل پہن کر چلا جانا کیسا ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بکر مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے گیا تھا تو بکر کی چپل کوئی لیکر چلا گیا تو بکر نے دوسرے کی چپل لیکر آ گیا تو کیا بکر کو دوسرے کی چپل استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں
سائل : عبدالسلام بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
اگر بکر کو پہنے سے پہلے معلوم ہو کہ یہ چپل غیر کی ہے تو سرے سے پہنا ہی درست نہیں ، اور انجانے میں پہن لیا ہو پھر معلوم ہوا تو استعمال کرنا جائز نہیں۔فقہاء کرام نے جوتے کے مسئلہ میں نص فرمائی ہے کہ اگر ایک کے دوسرے جوتوں میں تبدیل ہوجائیں، جیساکہ کتب عامہ میں مصرح ہے ۔
مسلم شریف میں ہے :"كل المسلم على المسلم حرام : دمه، وماله، وعرضه"ترجمہ: مسلمان مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، مال، عزت اور آبرو۔( كتاب البر و الصلة والاداب، باب تحريم الظلم المسلم الخ) ۔
مواد الظمان الی زوائد ابن حبان میں ہے : "وقال رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیه وسلم لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیه بغیر طیب نفس منه، قال ذٰلک لشدۃ ماحرم ﷲ من مال المسلم علی المسلم، رواہ ابن حبان" ترجمہ : اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کی چھڑی اس کی رضامندی کے بغیر لے لے۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کسی مسلمان کا مال مسلمان پر شدید حرام ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں بیان کیا۔(کتاب البیوع، حدیث 1160)۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اسباب اگر اس کی ملک ہے تو اس میں یہ تصرفات حرام ہیں (مخرجہ جلد 19 صفحہ 689)۔۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی،سوناپور ،اتردیناجپور،بنگال۔
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰