السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتیان کرام اس سوال کا جواب دیں
کہ میت پر جو نمازیں باقی ہیں اس کا کفارہ اس کی اولادکیسے نکالیں
*🌹 سائل: محمد محب اللہ خان🌹*
______________________
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مذکورہ میں اگر میت نے اولاد کو وصیت کی تھی تو اس کے ثلث مال سے فدیہ واجب ہے ورنہ مستحب ۔ فدیہ کی مقداریہ ہے کہ ہر فرض اور وترنماز کے بدلے نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جو تصدق کرے
در مختار مع رد المحتار میں ہے : و لو مات و عليه صلوات فائتةواوصي بالكفارة يعطي لكل صلاة نصف صاع من بر وكذا حكم الوتر والصوم وانما يعطي من ثلث ماله ۔ ترجمہ: اور اگر وہ شخص مر گیا اور اس پر قضا نمازیں ہوں اور اس نے کفارہ کی وصیت کی ہو تو ہر نماز کے بدلے نصف صاع گیہوں ادا کرے اور اسی طرح وتر اور روزے کا حکم ہے بیشک وہ اس کے ثلث مال سے دے گا( ج 2باب قضاء الفوائت صفحہ 532/533)
فتاوی ہندیہ میں ہے : اذامات الرجل وعليه صلوات فائتةفاوصي بأن تعطي كفارة صلواته يعطي لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع و لصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله ۔ ترجمہ : جب آدمی مر گیا اور اس پر فوت شدہ نمازیں ہو اور اس نے وصیت کی اپنی نمازوں کی کفارہ ادا کر دینا تو وہ ہر نماز کے بدلے نصف صاع گیہوں اور وتر اور روزے کے لیے بھی نصف صاع ادا کرے اس کے تہائی مال سے (ج 1مسائل متفرقة صفحہ 125)
بہار شریعت جلد اول میں ہے : جس کی نمازیں قضا ہوگئیں اور انتقال ہوگیا تو اگر وصیت کر گیا اور مال بھی چھوڑا تو اسکی تہائی سے ہر فرض اور وتر کے بدلے نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جو تصدیق کرے اور مال نہ چھوڑا اور ورثا فدیہ دینا چاہیں تو کچھ مال اپنے پاس سے یا قرض لے کر مسکین پر تصدق کرکے اس کے قبضہ میں دیں اور مسکین اپنی طرف سے اسے ہبہ کر دے اور یہ قبضہ بھی کر لے پھر یہ مسکین کو دیےیوہیں لوٹ پھیر کرتے رہے یہاں تک کہ سب کا فدیہ ادا ہو جائے اور اگر مال چھوڑا مگر وہ ناکافی ہے جب بھی یہی کریں اور اگر وصیت نہ کی ولی اپنی طرف سے بطور احسان فدیہ دینا چاہیے تو دے اور اگر مال کی تہائ بقدرِ کافی ہے اور وصیت یہ کی کہ اس میں سے تھوڑا لے کر لوٹ پھیر کر کے فدیہ پورا کر لیں اور باقی کو ورثا یا اور کوئی لے لے تو گنہگار ہوگا۔( قضا نماز کا بیان حصہ 4 صفحہ 707)
*🌹واللہ اعلم سبحانہ وتعالی🌹*
_____________________
*✍🏻کــتــبــہ*
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،مقام ساکن : نل باڑی، سونا پور اتر دیناجپور بنگال
*🗓 ۱۲ اپریل بروز جمعہ ۲۰۱۹ عیسوی* https://wa.me/+918793969359
