السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بزرگ کے چلہ خانہ کو مزار بنانا اور سال میں ایک مرتبہ عرس مانانا کیسا ہے دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
المستفتی : محمد زاہد رضا پرونہ٫ رام گنج الواباری، تاریخ : 2019/11/9ء
"""""""""""""""""""""""
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں چلہ کو فرضی قبر مانکر مزار بنانا یا بنوانا اور سالانہ عرس مانانا ناجائز و گناہ ہے اسی طرح مسلمانوں کو فرضی قبر چلہ پر حاضری دینا اور عرس کرنا اور چادر چڑھانااور چندہ دینا ناجائز و گناہ ہے اور جن لوگوں نے اس کو مزار بنالئے ہیں ان کو اکھاڑ اور ختم کردینااشد ضروری ہے۔
فتاویٰ عزیزیہ میں ہے : لعن اللہ من زار بلا مزار۔
حضور سرکار اعلیحضرت فقیہ اعظم مدث اعظم علیہ الرحمتہ و الرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل کا سا معاملہ کرنا ناجائز و وبدعت ہے
( فتاویٰ رضویہ ،جلد 4"صفحہ ،115 )
ہاں اگر اس جگہ کوئی بزرگ بیٹھے ہوں یا وہاں انہوں نے عبادت کی ہو وہاں یہ سمجھ کر عبادت کرنا کہ یہ جگہ متبرک ہے تو یہ جائز بلکہ سنت ہے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس جگہ نماز ادا کرتے تھے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نماز پڑھی تھی
بخاری شریف میں ہے : فلم يكن عبدالله ابن عمر يصلي في ذلك المسجد كان يتركه عن يساره ۔
( کتاب الصلاۃ باب المسجد التی علی طریق المدینۃ )
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
""""""""""""""""""""
کتبہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سونا پورہاٹ،اتردیناجپور، بنگال
*مورخہ؛ 13/ ربیع الاول1441ھ
11/ نومبر2019*
https://wa.me/+918793969359
