تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Jis masjid me jumma ki namaz nahi hoti hai usme alwida ki namaz pardhna jaiz hai ya nahi-------جس مسجــد میــں جمعــہ کــی نمــاز نہیــں ہــوتــی ہــے اس میــں الــوادع کــی نمــاز پڑھــنا جائز ہــےیا نہیں؟؟

0

 جــس مسجــد میــں جمعــہ کــی نمــاز نہیــں ہــوتــی ہــے اس میــں الــوادع کــی نمــاز پڑھــنا جائزہــےیا نہیں؟؟


اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

السوال

 کیا فرماتے ہیں علمائےکرام مزید مسائل کے بارے میں جس مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی ہےکیا اس مسجد میں الواداع کی نماز پر سکتے ہیں برائے مہربانی جواب ارشاد فرمائں ؟؟

المستفتی:محمد امتیاز رضوی 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السـَّلَام وَرَحمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

الجـــــــــواب بعون الملک الوھاب   

جمعہ  کی نماز ہر کوئی نہیں قائم کرسکتا کہ جہاں شرائط جمعہ پائے جائیں تو وہاں جمعہ کی نماز پڑھ سکتے ہیں جس کی صراحت کتب فقہیہ میں موجود ہے  :لہذا الوادع صرف نام نہیں ہے بلکہ اصل میں جمعہ ہی ہے اس میں صرف خطبہ الگ دیا جاتا ہے۔


مختصر القدوری میں ہے :لا تصح الجمعة الا فى مصر جامع ،ولا تجوز اقامتها الا سلطان او لمن امره السلطان ،ومن شرائطها الوقت فتصح فى وقت الظهر ،ومن شرائطها الخطبة قبل الصلاة ،ومن شرائطہا الجماعة واقلهم عند ابى حنيفة ثلاثة سواى الأمام ( صفحہ 202/ 203 باب الجمعہ )


  فتاویٰ رضویہ میں ہے ،،اس کے صحیح ہونے کی سات شرطیں ہیں ،( 1) شہر یا فنائے شہر (2) سلطان اسلام یا اس کا نائب یا ماذون یا بضرورت جسے عام مسلیمن نے امام جمعہ بنایا ہو (3) وقت ظہر ختم تک باقی رہنا (4) خطبہ وقت ظہر میں (5) قبل نماز کم از کم تین مسلمان مردوں عاقلوں کے سامنے خطبہ ہونا (6) جماعت سے ہونا جس میں کم از کم تین ایسے مرد ہوں (7) جمعہ کے لئے اذن عام ہونا بلاوجہ شرعی کسی کی روک نہ ہو ( مخرجہ جلد 8/ صفحہ 445 باب الجمعہ )


 بہار شریعت میں ہے (1) مصر وہ جگہ ہے جس میں  متعدد کُوچے اور بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں کوئی حاکم ہو کہ اپنے دبدبہ و سَطوَت کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے یعنی انصاف پر قدرت کافی ہے، اگرچہ ناانصافی کرتا اور بدلہ نہ لیتا ہو اور مصر کے آس پاس کی جگہ جو مصر کی مصلحتوں  کے لیے ہو اسے ’’فنائے مصر‘‘ کہتے ہیں ۔ جیسے قبرستان، گھوڑ دوڑ کا میدان، فوج کے رہنے کی جگہ، کچہریاں ، اسٹیشن کہ یہ چیزیں  شہر سے باہر ہوں  تو فنائے مصر میں ،  (2) سُلطان عادل ہو یا ظالم جمعہ قائم کرسکتا ہے یوہیں اگر زبردستی بادشاہ بن بیٹھا یعنی شرعاً اس کو حق امامت نہ،)  (3)وقت ظہر  یعنی: وقت ظہر میں نماز پوری ہو جائے تو اگر اثنائے نماز میں اگرچہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا جمعہ باطل ہوگیا ظہر کی قضا پڑھیں ٫( 4) خطبہ یعنی خطبہ جمعہ میں  شرط ہے، کہ: (5) جماعت یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مرد (6)  اذن عام یعنی مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے کہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی کی روک ٹوک نہ ہو، اگر جامع مسجد میں  جب لوگ جمع ہو گئے دروازہ بند کر کے جمعہ پڑھا نہ ہوا۔( جلد اول حصہ چہارم )

صورت مسئولہ میں مذکورہ بالا تمام شرائط پائے جائیں تو  قاضی شرع یا شہر کے بڑے عالم دین مفتی سے اجازت لے اور دیدے تو اس مسجد میں جہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی ہے وہاں الوادع کے جمعہ کی نماز اس مسجد میں پڑھنا جائز ہے ورنہ نہیں 


واللہ اعلم ورسولہ بالصواب

 ــــــــــــــــــــــــ

کـتـــــــــــــــبہ

اســـير حضـــور تـــاج الــشريعـــه

   حـضـرت عــــلامـہ و مـــولانا مـفـتــی محـمـــد شــــميم القــادرى احـــمدى خــوش محــمد صــاحـب قــبلہ مــدظـلہ الـعالـی والــــنورانـی،خادم سعدی دار الافتا، ســــــــاكــــن:کـھڑکــمن، پنچــائـت گـوروکھــــال،پـــوســٹ کــــوئـماری، پـوٹھـــیـا، کـشن گنــج بہــار الھنـــــــد

 مـــــوبائل نمـــــبر _

_*📲+9 1 8 0 7 0 5 6 7 2 1 6👈(🪀)*_ 


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad