تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Kafiron ke tehwar ke muqe par jo mithai taqsim hoti hai uska Lina aur istemal Karna kaisa_____کافروں کے تہوار کے موقع پر جو مٹھائی تقسیم ہوتی ہے اس کا لینا اور استعمال کرنا کیسا ؟

0

Kafiron ke tehwar ke muqe par jo mithai taqsim hoti hai uska Lina aur istemal Karna kaisa__؟
 


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

مفتیان کرام کی بارگاہ میں میرا ایک سوال ہے کہ کافروں کے تہوار پر جو مٹھائی تقسیم کی جاتی ہیں اس مٹھائی کا لینا اور اسے 
خود اور گھر والوں کو کھلانا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں.



سائل؛ محمد عرفات شیخ ،مہاراشٹرا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
 وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں ہندوؤں کی ایسی مٹھائی جو دیوتاؤں پر چڑھائی جاتی ہے اس كا لینا جائز ہے مگر اجتناب بہتر ہے اعلی حضرت امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں کہ حلال ہے لعدم المحرم مگر مسلمان کو احتراز چاہئے لخبث النسبة۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے: مسلم ذبح شأة المجوسي لبيت نارهم اوالكافر لألهتهم تؤكل لانه سمي الله تعالي ويكره للمسلم كذا في التاتارخانيه ناقلا عن جامع الفتاوى. اقول فاذا حلت هذه و هي ذبيحة فالمسؤل عنه أولي بالحل. ترجمہ: اگر کسی مسلمان نے آتش پر ست کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کافر کے جھوٹے خداؤں کے لئے ذبح کر ڈالی تو اسے کھایا جائے گا (یعنی کھانا چاہے تو کھاسکتاہے) اس لئے کہ مسلمان نے اس پر خدا کا نام لیاہے لیکن ایسا کرنا مسلمان کے لئے مکروہ ہے تاتارخانیہ میں جامع الفتاوٰی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔اقول (میں کہتاہوں) جب یہ ذبیحہ ہونے کے بعد حلال ہے تو پھر جس مسئلہ کے متعلق سوال کیا گیا وہ بطریق اولیٰ حلال ہے

 اور شیخ محقق رحمة اللہ تعالی مجمع  البرکات میں فرماتے ہیں: ما يأتي المجوس في نيروزهم من الأطعمة يحل أخذ ذلك والاحتراز عنه أسلم كذا في مطالب المؤمنين ناقلا عن الذخيرة۔ ملخصا اقول فاذا كان الاحتراز عن هذا اسلم مع انه ليس إلا طعاما صنعوه ليوم زينتهم فالمستفسر عنه أجدر بالاحتراز واحري كما لا يخفى. ترجمہ: آتش پرست اپنی عید میں جو کھانے وغیرہ لاتے ہیں ان کا لینا حلال ہے ہاں البتہ ان سے بچنا زیادہ سلامتی کی راہ ہے۔ اسی طرح مطالب المومنین میں ذخیرہ کے حوالے سے منقول ہے۔ تلخیص پوری ہوئی، اقول(میں کہتاہوں) جب اس سے بچنا زیادہ سلامتی ہے باجود یکہ یہ صرف وہ کھانا ہے جو انھوں نے اپنی زیب وزینت کے دن کے لئے تیار کیا ہے لہذا جس کے متعلق سوال کیا گیا وہ بچنے کے زیادہ قابل اور لائق ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں اگر کفار اس پرشاد کو بطور تصدق بانٹ رہے ہوں جب تو ہر گز پاس نہ جائے یا رب مگر بضرورت شدیدہ کہ صدقہ کے طور پر لینے میں معاذ اللہ مسلمان کی ذلت اور گویا کافر کے ہاتھ اس کے ہاتھ پر بالا کرنا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الید العلیا خیر من الید السفلی والید العلیا هی المنفقة والید السفلی ھی السائلة اخرجة الشیخان.وغیرھما عن ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنهما۔اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے والا ہاتھ اونچا ہے اور مانگنے والا نیچا، (بخاری ،مسلم اور ان دو کے علاوہ باقی لوگوں نے عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اسے اس کی تخریج کی( فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 607)

 صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگر چہ وہ حرام نہیں ہو جاتی تاھم اس سے اجتناب اولی ہے کہ اسے تبرک سمجھکر تقسیم کرتے ہیں اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی۔
( فتاوی امجدیہ جلد 4صفحه 59)

          واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
     کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتر دیناجپور پور، ویسٹ بنگال الہند۔
*29/ صفر المظفر 1441ھ*
*29/ اکتوبر 2019ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad