دیوالی کے موقع پر مبارکباد دینا کیسا ہے ؟؟؟
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : وبتحسين أمر الكفار إتفاقا۔ ترجمہ: اگر وہ امر کفار کی تحسین کرتاہے تو بالاتفاق تکفیر کیا جائیگا ( كتاب السير الجزء الثاني صفحه 277) اگر وہ یہ جانتے ہوئے مبارک باد دیا کہ مسلمان اور کافر دونوں ایک ہے اور صحیح ہے تو یہ بھی کفر ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے : من أعتقد ان الإيمان والكفر واحد فهو كافر. ترجمہ: جس نے اعتقاد رکھا ایمان و کفر ایک ہے تو وہ کافر ہے۔(کتاب السیر الجزء الثانی صفحہ257)اگر وہ ہندوں کی دیوالی ںسے خوش وراضی ہو کر مبارک باد دیا یہ بھی کفر ہے۔اسی میں ہے : من يرضی بكفر غيره ويفكر عليه الفتوى۔ ترجمہ : جو شخص دوسرے کے کفر پر راضی ہو تو اس پر کفر کا فتوی دیا جائے گا۔ (كتاب السير الجزء الثاني صفحه 257)۔
اگر وہ کفاروں کی دلجوئی کے لیے مبارک باد دیا تو یہ اشد اشد حرام و ناجائز ہے۔اس لئے کہ کفاروں سے میل جول رکھنا اشد حرام ہےجو مسلمان ہندوں کو اپنا دوست رکھتے ہیں تووہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ. ترجمہ : اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے.(پارہ 6 سورہ مائدہ أيت 51) حدیث شریف میں ہے: من تشبه بقوم فهو منهم۔ ترجمہ:جو جس قوم سے تشبہ رکھے وہ انہیں ہی میں سے ہے(سنن ابو داؤد کتاب الباس صفحہ 559 )۔

Masha allah
ReplyDeleteMasha Allah
ReplyDeleteAap Hazrat se guzarish hai ke jitna jald ho sake kufristhan ko chhodkar aap log Pakistan chale jaen, jis mulk mein aap rah rahe hain vah kafiron ka mulk hai aur uske zameen per rahakar aap Islam ka hawala denge aur uske
Deletefestival ke mauke per aap usko mubarakbad nahin denge yah Akhlaque bhi hamara Islam nahin sikhata hai aage aapki marzi.