تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

dewali ke muqe par mubarak bad dena kaisa hai? ----- دیوالی کے موقع پر مبارکباد دینا کیسا ہے ؟

3

 

 دیوالی کے موقع پر مبارکباد دینا کیسا ہے  ؟؟؟


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
بعد سلام کے عرض ہے کہ کیا فرماتے علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ دیوالی کی مبارک باد کسی مسلمان کو کیسا ہے نیز یہ بھی بتائیں کہ دیوالی کی مبارکباد دینے والے مسلمان کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے جتنی جلدی ہو سکے جواب حوالے کے ساتھ عنائت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

سائل : محمد قاسم رضا ضلع بہرائچ شریف

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں مسلمانوں کو ہندوں کی دیوالی کو اچھا جانتے ہوئے مبارک باد دینا کفر ہے۔
لہذا وہ شخص پر لازم ہےکہ وہ توبہ اور تجدید ایمان کرے اگر وہ شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اگر وہ کسی سے مرید ہو تو تجدید بیعت بھی کرے۔۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے : وبتحسين أمر الكفار إتفاقا۔ ترجمہ: اگر وہ امر کفار کی تحسین کرتاہے تو بالاتفاق تکفیر کیا جائیگا ( كتاب السير الجزء الثاني صفحه 277) اگر وہ یہ جانتے ہوئے مبارک باد دیا کہ مسلمان اور کافر دونوں ایک ہے اور صحیح ہے  تو یہ بھی کفر ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے : من أعتقد ان الإيمان والكفر واحد فهو كافر. ترجمہ: جس نے اعتقاد رکھا ایمان و کفر ایک ہے تو وہ کافر ہے۔(کتاب السیر الجزء الثانی صفحہ257)اگر وہ ہندوں کی دیوالی ںسے خوش وراضی ہو کر مبارک باد دیا یہ بھی کفر ہے۔اسی میں ہے : من يرضی بكفر غيره ويفكر عليه الفتوى۔ ترجمہ : جو شخص دوسرے کے کفر پر راضی ہو تو اس پر کفر کا فتوی دیا جائے گا۔ (كتاب السير الجزء الثاني صفحه 257)۔

اگر وہ کفاروں کی دلجوئی کے لیے مبارک باد دیا تو یہ اشد اشد حرام و ناجائز ہے۔اس لئے کہ کفاروں سے میل جول رکھنا اشد حرام ہےجو مسلمان ہندوں کو اپنا دوست رکھتے ہیں تووہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ. ترجمہ : اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے.(پارہ 6 سورہ مائدہ  أيت 51) حدیث شریف میں ہے: من تشبه بقوم فهو منهم۔  ترجمہ:جو جس قوم سے تشبہ رکھے وہ انہیں ہی میں سے ہے(سنن ابو داؤد کتاب الباس صفحہ 559 )۔

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
       _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتر دیناجپور پور، ویسٹ بنگال الہند۔
*27/ صفر المظفر 1441ھ*
*27/ اکتوبر 2019ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

3 Comments
  1. Replies
    1. Aap Hazrat se guzarish hai ke jitna jald ho sake kufristhan ko chhodkar aap log Pakistan chale jaen, jis mulk mein aap rah rahe hain vah kafiron ka mulk hai aur uske zameen per rahakar aap Islam ka hawala denge aur uske
      festival ke mauke per aap usko mubarakbad nahin denge yah Akhlaque bhi hamara Islam nahin sikhata hai aage aapki marzi.

      Delete
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad