تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

عورتیں سر پر دوپٹہ نہیں ڈالتی ہے اور سرعام گھومتی ہے اور شوہر منع بھی نہیں کرتا ہے تو شوہر گناہ گار ہے یا نہیں؟

0

عورتیں سر پر دوپٹہ نہیں ڈالتی ہے اور سرعام گھومتی ہے اور شوہر منع بھی نہیں کرتا ہے تو شوہر گناہ گار ہے یا نہیں؟

 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں عورتیں سر پر دوپٹہ نہیں ڈالتی ہے اور سرعام گھومتی ہے اور شوہر منع بھی نہیں کرتا ہے ان دونوں پر شرعاً کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں 

 

المستفتی: محمد عبد الرحمن

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

صورت مسئولہ میں آزاد عورت کو سر کھولنا اور سرعام گھومنا بھی حرام ہے۔ وہ عورتیں ان حرکات کی وجہ سے فاسقہ ہیں اور شوہر پر فرض ہے کہ اپنی عورت کو فسق سے روکے۔ اور مرد مطلع ہونے کے باوجود عورت کو اپنی حدِ مقدور تک نہ روکتا ہو بندوبست نہ کرتا ہو تو وہ بھی فاسق و دیّوث ہے۔اگرمرد جس قدر اپنی قدرت اس رسم شنیع کے مٹانے کے لئے صرف کرے پھر عورت نہ مانے تو مرد پر کوئی الزام نہیں۔


قرآن مجید میں ہے : لاتزر وازرۃ وزر اخری۔ ترجمہ:کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( سورہ انعام آیت 164) دوسری جگہ ہے :یا ایھا الذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ ترجمہ: اے ایمان والو! بچاؤ اپنی جانوں کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے۔ (پارہ 28 سورہ تحریم  آیت6 )


صحیح بخاری میں ہے :ان عبد الله بن عمر يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته، الإمام راع ومسئول عن رعيته، والرجل  راع في اهله وهو مسئول عن رعيته، والمراة راعية في بيت زوجها ومسئولة عن رعيتها، والخادم راع  في مال سيده ومسئول عن  رعيته"، قال: و حسبت ان قد قال والرجل  راع  في مال ابيه ومسئول عن رعيته، وكلكم  راع  ومسئول عن رعيته. ترجمہ:تم سب اپنے متعلقین  کے سردار وحاکم ہو اور ہرحاکم سے روزِ قیامت اس کی رعیت کے باب میں سوال ہوگا ۔عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اسکی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ ابن عمررضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان  اپنے باپ کے مال کا نگراں ہے اور اسکی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔(ج1 باب الجمعۃ فی القرٰی والمُدن صفحہ 122)۔ 


درمختار میں ہے :الدیوث هو من لا یغار علی امرأته أو محرمه . ترجمہ: وہ شخص دیوّث ہوتا ہے جو اپنی بیوی اور کسی محرم پر غیرت نہ آتی ہو ۔(باب التعزیر صفحہ 318)


فتاویٰ رضویہ میں ہے : جس کی عورت بے ستر باہر پھرتی ہے کہ بازو یا گلا یا پیٹ یا سر کے بال یا پنڈلی کا حصّہ غرض جس جسم کا چھپانا فرض ہے کُھلا ہوا ہے یا اس پر ایک باریک کپڑا ہو کہ بدن چمکتا ہو اور وہ اس حالت پر مطلع ہوکر عورت کواپنی حدِ مقدور تک نہ روکتا ہو بندوبست نہ کرتا ہو وہ بھی فاسق و دیّوث ہے۔ رسول ﷲصلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ثلثة لاید خلون الجنّة العاق لوالدیه والدیوث ورجلة النساء ۔رواہ الحاکم والبیھقی بسند صحیح عن ابن عمر رضی ﷲ تعالٰی عنہما۔تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کو ایذا دینے والا اور دیّوث اور مردوں کی صورت بنانے والی عورت۔ اس کوحاکم اوربیہقی نےحضرت ابن عمر رضی ﷲتعالٰی عنہما سے بسند صحیح روایت کیا ہے۔( جلد 6 صفحہ 487)۔


وﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم وعلمہ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتر دیناجپور، ویسٹ بنگال الہند۔

*11/ رمضان المبارک 1441ھ* 

*5/ مئ 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad