تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Masjid ke nam par zamin waqaf karne ke baad,un ke lardhkun ka dene se inkar kar na kaisa hai _____مسجد کے نام پر زمین وقف کرنے کے بعد ،ان کے لڑکوں کا دینے سے انکار کرنا کیسا ہے ؟؟

0

Masjid ke nam par zamin waqaf karne ke baad,un ke lardhkun ka dene se inkar kar na kaisa hai
 ‭‮
مسجد کے نام پر زمین وقف کرنے کے بعد ،ان کے لڑکوں کا دینے سے انکار کرنا کیسا ہے ؟؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ۔ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام  مسلئے ذیل کے بارے میں کہ زید کے والد صاحب نے مسجد کے نام سے زمین وقف کر دے تھے زید کے والد صاحب کا انتقال ہونے کا ایک دو سال ہوگیا ہے اب زید کے بھائیوں نے زمین دینے سے انکار کر رہے ہیں زید کے بھائیوں پر شریعت کا کیا حکم ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسکا جواب عنایت فرمائیں


المستفتی:بندہئہ خدا

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

صورت مذکورہ میں زید کے والد صاحب نے جو زمین مسجد کے لئے وقف کیئے تھے وہ زمین ہمیشہ کے لئے مسجد پر وقف ہوگئی اب وہ کسی کی ملکیت نہ رہی خالص اللہ تعالی کی مملوکہ ہے اس میں کسی طرح کی تبدیلی وانتقال جائز نہیں، اور نہ ہی اس کے وارثین اسے بیچ سکتے ہیں، اور وارثین کا اس میں کوئی حق نہیں، اگر زید کے بھائیں دینے سے راضی نہ ہو تو تمام مسلمان اس وقت تک مکمل دینی و سماجی بائیکاٹ رکھیں جب تک وہ دینے سے راضی نہ ہوجائے، اور وہاں کے تمام مسلمانوں پر مسجد کی حفاظت و آبادی فرض ہیں۔


اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّـٰهِ اَنْ يُّذْكَـرَ فِيْـهَا اسْمُهٝ وَسَعٰى فِىْ خَرَابِـهَا ۚ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَـهُـمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَا اِلَّا خَآئِفِيْنَ ۚ لَـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِـيْمٌ.۔ ترجمہ: اُن سے بڑھ کر ظالم کون جو ﷲ کی مسجدوں کو اُن میں ﷲ کا نام لئے جانے سے روکیں اور اُن کی ویرانی میں کوشاں ہو انھیں تو مسجدوں میں قدم رکھنا روا نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے ( سورہ بقرہ آیت 114) رد المحتار میں ہے : الواجب ابقاء الوقف على ماكان عليه ۔ وقف کو باقی رکھنا واجب ہے جس پر وہ پہلے تھا( ج6 کتاب الوقف مطلب لایستبد العامر الا فی اربع صفحہ 589) اسی میں ہے:  " شرط الواقف كنص الشارع فى وجوب العمل به " (ج6 کتاب الوقف صفحہ 589 ) فتاویٰ ہندیہ میں ہے لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته ۔ ترجمہ : وقف کو تغییر کرنا جائز نہیں ہے اس کی صورت سے ( ج 2 الباب الرابع عشر فی المتفرقات صفحہ 490) اسی میں ہے : ولا يباع ولا يوهب ولا يورث. ترجمہ: وقف کی زمین نہ خرید وفروخت ہو سکتی ہے نہ کسی کو ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں وراثت جاری ہوگی۔( ج 2 کتاب الوقف، وہو مشتمل علی اربعۃ عشر بابا صفحہ 350) درمختار میں ہے : فيلزم فلا يجوز له أبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوي ابن الكمال وابن الشحنه . ترجمہ : تو وہ لازم ہو جائے گا اب اس کا ابطال یا وراثت بنانا جائز نہیں، اسی پر فتویٰ ہے، ابن کمال وابن شحنہ۔ (ج 6 کتاب الوقف صفحہ 554)  ہدایہ آخرین میں ہے : ولا يباع ولا يوهب ولا يورث. ترجمہ : وقف کی زمین نہ خرید وفروخت ہو سکتی ہے نہ کسی کو ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں وراثت جاری ہوگی۔( ج1 کتاب الوقف صفحہ 637)۔


فتاویٰ رضویہ میں ہے: وہ مسجد یقینا مسجد ہے، شخص مذکور کا اسے حکم دار میں بتانا اور اپنے مورثوں کی ملک ٹھہرانا ظلم و غصب ہے اور واحد قہار کی ملک دبا بیٹھنا ہے جب وہ عام طور پرمسجد مشہور ہے، مدتوں سے پنجگانہ جماعتیں جمعے، عیدین، تراویح وغیرہا مثل عام مساجد ہوتی ہیں، کوئی حق ملک اس میں غیر خدا کے لئے ثابت نہیں تو اسے مسلمان تو مسلمان جو غیر مذہب والا بھی دیکھے گا مسجد ہی جانے گا ( ماخوذ جلد 16 صفحہ 320)۔۔

 

واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور ویسٹ بنگال الہند

*8 / ذی الحجہ 1441ھ* 

*30/ جولائی 2020ء *

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad