اَلسَّلامُ عَلَيْكُم
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام ومفتیان۔عظام اس مسلۓ کے بارے میں زید نے ہندہ کو نشے کی حالت میں تین طلاق دیا اس سے کیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں اور اگر طلاق واقع ہوٸی تو پھر اس کو لوٹانے کی صورت کیا ہے جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
سائل : محمد منور عالم
____________________
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں زید نے ہندہ کو نشہ کی حالت میں تین طلاق دی تو طلاق مغلظہ واقع ہوگی
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : طلاق السكران واقع اذاسكر من الخمر أو النبيذ هو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى یعنی اگر کسی نے شراب یا نبیذ کے نشہ کی حالت میں طلاق دی تو ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک طلاق پڑھ جائے گی( ج 1فصل فیمن یقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه صفحہ 353)
ہدایہ اولین میں ہے :طلاق السكران واقع" ترجمہ : بے شک نشہ والے کی طلاق واقع ہو جاتی ہے ( کتاب الطلاق، صفحہ 358)
در مختار مع ردالمحتار میں ہے: " ليدخل السكران أي فإنه في حكم العاقل زجرا له فإن طلاقه صحيح فلا منافاة بين قوله عاقل وقوله الآتي او سكران :(ج4 کتاب الطلاق مطلب طلاق الدور صفحہ338)
بہار شریعت جلد دوم میں ہے : نشہ والے نے طلاق دی تو طلاق واقع ہو جائے گی کہ یہ عاقل کے حکم میں ہے اور نشہ خواہ شراب پینے سے ہو یا بنگ وغیرہ کسی اور چیز سے افیون کی پینک میں طلاق دے دی جب بھی واقع جائے ہوگی طلاق میں عورت کی جانب سے کوئی شرط نہیں نابالغہ ہو یا مجنونہ بہر حال طلاق واقع ہو جائے گی(حصہ 8 طلاق کا بیان صفحہ5/6)
اب زید کو بغیر حلالہ کیے ہندہ حلال نہیں قرآن مجید میں ہے: فإن طلقها فلاتحل له من بعد حتی تنكح زوجا غيره : ترجمہ پھر اگر تیسری طلاق دی اس کے بعد وہ اس سے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے (پارہ 2 سورہ بقرہ آیت230)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ان کان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بها ثم یطلقها أو یموت عنها ۔یعنی اگر دوسرے شوہر نے بغیر ہمبستری کے طلاق دی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا ( ج 1 کتاب الطلاق صفحہ 473)۔
حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد ہندہ کسی سنی صحیح العقیدہ سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے پھر وہ مرجائے یا طلاق دیدےتو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ زید سے نکاح کر سکتی ہےاگر شوہر ثانی نے ہمبستری کئے بغیر طلاق دیدی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا كما في حديث العسيلة۔
واللہ اعلم سبحانہ وتعالی
____________________
کــتــبــہ
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دارالافتا، متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتر دیناجپور بنگال
*🗓 ۲۲ مئی بروز بدھ ۲۰۱۹ عیسوی* https://wa.me/+918793969359

