اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام مسٸلہ ذیل میں
ہمارے یہاں 36..3 پر ختم سحری ہے
اور اذان 41...3 پر ہوٸی
اب کوٸی شخص 42...3 میں وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی سحری کا ٹائم باقی ہے پانی پی لیا تو کیا اس شخص کا روزہ ہوگا یا ٹوٹ جاٸیگا
علماٸے کرام رہنماٸی فرماٸیں
سائل: محمد مزمل
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں اس کا روزہ نہیں ہوا۔اس پر اس دن کے روزے کی قضا رکھنا فرض ہے یعنی اس روزے کے بدلے میں ایک روزہ رکھنا ہے لیکن کوئی کفارہ نہیں، کیونکہ خطا ایسا ہوا ہے، تو گناہ بھی نہیں ایسی صورت میں اگر چہ روزہ نہیں ہوتا، لیکن سارا دن روزہ دار کی طرح رہنا واجب، اگر وہ روزہ دار کی طرح نہیں رہا تو وہ ضرور گناہ گار ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حــضـــرت مفتی محمــــــــد مـظـہـر حــسـین سـعــدی الـقــادری،خــادم سعدی دار الافـتـاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الـھـــــنــد،۔
*8/ رمضان المبارک 1441ھ*
*2/ مئی 2020 ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

