قبرستان سے سبز گھاس کاٹنا کیسا ہے؟
السلام عليكم و رحمة الله و برکاته
مفتیان کرام کی بارگاہ میں سوال یہ ہیکہ قبر کے اوپر کوئی درخت ہو تو اسکا کاٹنا یا اٹھا کر پھینکنا کیسا ہے برائے کرم دلائل سے مزین جواب عطا فرمائیں
سائل : محمد رضوان رضا بنگل
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
مقبرہ پر گھاس ہرا بھرا ہو تو اس کو کاٹنا مکروہ ہے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : ''مقبرے کی گھاس (سبز) کاٹنا مکروہ ہے کہ جب تک وہ( گھاس سبز) تر رہتی ہے ﷲ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے، اس (سبز گھاس) سے اموات کا دل بہلتا ہے اور ان پر رحمتِ الہٰی کا نزول ہوتا ہے ،ہاں خشک گھاس کاٹ لینا جائز ہے مگر وہاں سے تراش کو جانوروں کے پاس لے جائیں، اور یہ ممنوع ہے کہ انھیں گورستان میں چرنے چھوڑدیں''۔فی جنائز ردالمحتار یکرہ ایضا قطع النبات الرطب والحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر والدرر وشرح المنیة وعلله فی الامداد بانه مادام رطباً یسبح ﷲ تعالیٰ فیونس المیّت وتنزل بذکرہ الرحمة ونحوہ فی الخانیۃ انتھی . وفی العالمگیریة عن البحر الرائق لوکان فیھا حشیش یحش ویرسل الی الدواب ولاترسل الدواب فیھا۔ ردالمحتار کے جنائز میں ہے کہ ترگھاس کا مقبرے سے کاٹنا مکروہ ہے خشک گھاس کا نہیں، جیسا کہ بحر، درراور شرح منیہ میں ہے، اور امداد میں اس کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ جب تک وہ تر رہتی ہے ﷲ کی تسبیح کرتی رہتی ہے جس سے میّت کو انس حاصل ہوتا ہے ، خانیہ میں بھی اسی طرح ہے انتہی،اور علمگیریہ میں بحر الرائق سے ہے کہ اگر قبرستان میں خشک گھاس ہوتو کاٹ کر لائی جاسکتی ہے مگر جانور اس میں نہ چھوڑے جائیں ۔( جلد 9 صفحہ 443)۔۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال۔
*29/ شعبان المعظم 1441ھ*
*24/ اپریل 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
