تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Arotun ko mazar me jana kaisa hai? Agar Shuhar ki ijazat se jae to Shuhar ke liye kiya hukme hai?عورتوں کو مزار میں جانا کیسا ہے؟ اگر شوہر کی اجازت سے جائے تو شوہر کے لئے کیا حکم ہے؟؟

3

Arotun ko mazar me jana kaisa hai? Agar Shuhar ki ijazat se jae to Shuhar ke liye kiya hukme hai?


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان ۔ مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید اپنی اہلیہ ہندہ کے ساتھ ہرجمعرات کو اپنی مصیبت کی دفع کیلئے مزار پاک کی زیارت کیلئے جاتے ہیں تو بکرنے کہا کہ عورت کو مزار پاک کی زیارت کیلئے لے جانا منع ہے تو زید نے کہا کہ بہت بزرگوں کی مزارات پر عورتیں اپنی محرم کے ساتھ زیارت کیلئے جاتی ہے بلکہ بعض مرد اور بعض عورتیں حاضری بھی لگاتی ہے تو زید کا کہنا ہے کہ ازروئے شرع اس میں کوئ حرج نہیں ہونا چاہئے کیونکہ حدیث پاک میں مطلقا قبروں کی زیارت کا حکم دیاگیا ہے اس میں کسی تخصیص نہیں۔۔۔ لہذا علمائے دین ومفتیان سے موءدبانہ گذارش ہے کہ مذکورہ مسائل پر غور فرماکر مقتضائے حال کے مطابق قرآن واحادیث واقوال بزرگان دین کی روشنی میں باحوالہ جواب مرحمت فرمائے اور اجر عظیم کے مستحق بنیں۔

۔العارض ۔۔۔فقیر محمد منظور عالم برکاتی سراجی۔۔۔۔۔۔۔رضانگر سملیا۔۔۔

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
عورتوں کو زیارت قبور میں علماء کا اختلاف ہے مگر نظر بحال زمانہ میرے نہ میرے بلکہ اکابر متقدمین کے نزدیک سبیل ممانعت ہی ہے اور اسی کو اہل احتیاط نے اختیار فرمایا اور اس لئے بھی شرع مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ برائیوں کے اسباب دور کرنا اچھایوں کے حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ مسلم شریف میں ہے : عن عمرة بنت عبد الرحمن،انها سمعت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، تقول: " لو ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى ما احدث النساء، لمنعهن  المسجد،كما منعت نساء بني إسرائيل. ترجمہ:حضرت عمرہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (بناؤ سنگھار) کو دیکھ لیتے جو عورتیں اب کرتی ہیں تو ان کو مسجد میں آنے سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا۔( کتاب الصلاۃ، باب خروج النساء الی المساجد صفحہ 217)۔   

عمدۃ القاری صحیح البخاری میں ہے : ولما روي حديث أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعن الله زوارات القبور قال هذا حديث صحيح. اسی میں ہے : حاصل الكلام من هذا كله أن زيارة القبور مكروهة للنساء بل حرام في هذا الزمان لاسيما نساء مصر لأن خروجهن على وجه الفساد والفتنة وانما رخصت الزيارة لتذكر أمر الآخرة وللاعتبار بمن مضي وللتزهد في الدنيا. اسی میں ہے : ولقد كره اكثر العلماء خروجهن إلي الصلاه فكيف الي المقابر وأما اظن سقوط فرض الجمعة عليهن الا دليلاً على امساكهن عن الخروج فيما عداها. ( ج8 باب زیارۃ القبور صفحہ 101/100) الاشباہ والنظائر میں ہے : دراء المفاسد اهم من جلب المصالح. ترجمہ: اور وہ خرابیوں کے اسباب دور کرنا خوبیوں کے اسباب حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے ۔( القاعدۃ الخامسۃ، الضرر یزل صفحہ 68)  فتاویٰ رضویہ میں ہے : عورتوں کو زیارت قبور منع ہے حدیث میں ہے: لعن الله زائرات القبور. اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں۔ اسی میں ہے : اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں۔( جلد 9 صفحہ 537)۔۔ 

لہذا عورتوں کو محارم کے قبروں یا کسی بزرگ کے مزار پر جانا ممنوع ہے اگر شوہر اجازت دے تو دونوں گناہ گار ہونگے اللہ تعالی قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے :وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.( پارہ 6 سورہ آیت 2)۔الاشباہ والنظائر میں ہے : حتي لو اذن كانا عاصيين ومن لم يعرف ناس زمانه فهو جاهل. یعنی حتی کہ اگر شوہر بیوی کو بغیر ضرورت شرعی باہر جانے کی اجازت دے تو بصورت عمل میاں بیوی دونوں گناہ گار ہونگے اور جو شخص اپنے زمانے کے لوگوں کی معرفت نہیں رکھتا وہ نرا جاہل ہے۔ ( مخلصا صفحہ 148)۔  
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*10/ ربیع الاخر 1442ھ*
*26/ نومبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

3 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad