اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الـســــوال
زید مالک نصاب ہے اور زید کا بھائ مالک نصاب نہیں جوکہ پاگل مزاج کا ہے اور زید اس کے پیچھے سال بھر میں کم سے کم پچاس سے ساٹھ ہزار روپے خرچ کرتا ہے اور جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو وہ پورے روپے کو زکوۃ میں جوڑ دیتا ہے تو کیا ایسا کرنے سے زید کا زکوۃ ادا ہو جائے گا یا نہیں؟
علمائے کرام رہنمائی فرمائیں
الســائل : نوید خان رائپور چھتیس گڑھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ
الجـــــوابــــــــــــ:بعون الملک الوھاب اللھم ہدایت الحق بالصواب
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے خواہ رقم ہو یا اس کے بدلے اور کوئی چیز مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا دینا ضروری ہے جو قبضہ کرنا جانتا ہواگر اس کا بھائی پاگل مزاج کا ہے اور وہ قبضہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ پھینک دے یا دھوکہ کھائے ادا نہ ہوگی، مثلاً نہایت چھوٹے بچہ یا پاگل کو دینا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اُس کی طرف سے اس کا باپ جو فقیر ہو یا وصی یا جس کی نگرانی میں ہے قبضہ کریں صورت مسئولہ میں اگر زید اپنے بھائی کو زکوٰۃ کی رقم دے کر مالک بنا دیا تھا یا زکوٰۃ کی رقم سے ادویات خرید کر مالک بنا دیا تھا تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور جو ادویات کی قیمت بازار کی بھاؤ سے ہوگی وہی زکوٰۃ سے منہا ہوگی اوراگر ڈاکٹر کو علاج کے لئے دیا تھا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اس صورت میں تملیک فقیر نہیں پائی جائے گی ۔ تنویر الابصار میں ہے :هي تمليك جزء مال عينيه الشارع من مسلم فقير غير هاشمي ولا مولاه مع قطع المنفعة عن الملك من كل وجه لله تعالى(ج 3 کتاب الزکاۃ صفحہ71/172)
فتاویٰ رضویہ میں ہے :زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کہ عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلّہ مکّا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کردینا جائز و کافی ہے ، زکوٰۃ ادا ہوجائیگی ، جس قدر چیز محتاج کی مِلک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجراہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے ( جلد 10 صفحہ69/70)
بہار شریعت جلد اول میں ہے : زکاۃ ادا کرنے میں یہ ضرور ہے کہ جسے دیں مالک بنا دیں ، اباحت کافی نہیں،لہٰذا مالِ زکاۃ مسجد میں صَرف کرنا یا اُس سے میّت کو کفن دینا یا میّت کا دَین ادا کرنا یا غلام آزاد کرنا، پُل، سرا،سقایہ،سڑک بنوا دینا، نہر یا کوآں کھدوا دینا ان افعال میں خرچ کرنا یا کتاب وغیرہ کوئی چیز خرید کر وقف کر دینا ناکافی ہے۔( حصہ 5 صفحہ 930)
وَاللّٰــــهُ تَعَـــالــٰی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
حــضـــرت مفتی محمــــــــد مـظـہـر حــسـین سـعــدی الـقــادری ،خــادم سعدی دارالافـتـاء،متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور ویسٹ بنگال الـھـــــنــد
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_

