السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علاماۓ اکرام اس مسئلہ میں کہ ایک ماں نے اپنی لڑکی کی شادی کے لئے سونے چاندی کہ زیور بنا کر رکھے اور اس لڑکی کہ والد بھی ہیں نہیں تو کیا ان زیور پر زکاة نکالی جائگی
سائل : محمد خالد رضا نوری
اـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
جو شادی کے لئے سونے چاندی کے زیور بنا کر رکھے ہیں اگر وہ سونا چاندی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہے یا سونا چاندی ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی ہے تو آپ مالک نصاب ہیں اس پر سال بھی گزر چکا ہے تو اس سونا چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔
رد المحتار میں ہے : اذا امسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي وان كان قصده الانفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه الي حوائجه الأصلية وقت حولان الحول بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها۔(ج 3مطلب فی زکاۃ ثمن المبیع وفاء صفحہ 179 )
بہار شریعت جلد اول میں ہے: حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا اور جو باقی رہے اگر بقدر نصاب ہیں تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگر چہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکاۃ واجب نہیں۔(حصہ 5 صفحہ 884)
لہذا اگر وہ سونا چاندی نصاب ہے اور اس پر سال بھی گزر چکا ہے تواس پر زکوٰۃ نکالنا واجب ہے
واللہ تعالیٰ اعلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی ، خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال
*🗓 ۱۷ رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۱ مئی ٠٢٠٢ء بروز سوموار*
*رابطہ* https://wa.me/+918793969359
ـــــــــــــــــــ

