تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Dewar apni bhabhi se shadi kar sakta hai ya nahi?_____دیور اپنی بھابھی سے شادی کرسکتا ہے یا نہیں ؟؟

0

 

Dewar apni bhabhi se shadi kar sakta hai ya nahi?



السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

مفتیان کرام کی بارگاہ میں عرض ہیکہ زید اور ہندہ کی شادی ہوئی 6 ماہ کے بعد زید انتقال کر گیا اب زید کے گھر والے اور ہندہ کے گھر والے اس بات پر راضی ہیکہ ہندہ کا نکاح اب زید کے چھوٹے بھائی بکر سے کی جائے حضرت سے پوچھنا ہیکہ ہندہ کی دوسری نکاح کے لئے کوئی عدت گزارنی پڑیگی یا کبھی بھی نکاح کر سکتی ہے اگر عدت گزار نے کی ضرورت ہے تو ہندہ کہاں رہ کر گزارے اپنی سسرال میں یا اپنی ماں باپ کے گھر حضور جواب عنایت کریں


 سائل : رحمت شاہدی کٹیہار

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

ہندہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے جبکہ غیر حاملہ ہو موت عدت گزارنے کے بعد زید کے چھوٹے بھائی سے نکاح کرسکتی ہے اور ہندہ شوہر کے انتقال کے وقت جس گھر میں رہتی تھی اسی میں عدت گزارے۔اگر حمل والی ہو تو اسکی عدت وضع حمل ہے 


قرآن مجید میں ہے : وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّؕ۔ اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں ۔( پارہ 28 سورہ طلاق آیت 4)۔ قرآن مجید میں ہے : وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (2) ترجمہ: تم میں  جو مرجائیں  اور بی بیاں  چھوڑیں  وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں  پھر جب اُن کی  عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں  اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اللہ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے ( پارہ2 سورہ بقرہ آیت 234)


ہدایہ میں ہے : و عدة الحرة في الوفات أربعة أشهر و عشر.( ج1 باب العدۃ صفحہ 422)


فتاویٰ رضویہ میں ہے : وفات کی عدت عورت غیر حامل پر مطلقاً چار ماہ دس دن ہے خواہ صغیرہ ہو یا کبیرہ ، مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ۔ ( جلد 13 صفحہ 293) 


بہار شریعت جلد دوم میں ہے : موت کی  عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں  رات بھی گزرلے بشرطیکہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو۔ یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو (حصہ 8 عدت کا بیان صفحہ 239)۔


وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حــضـــرت مفتی محمــــــــد مـظـہـر حــسـین سـعــدی  الـقــادری ،خــادم سعدی دارالافـتـاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الـھـــــنــد،۔

*27/ شعبان المعظم1441ھ* 

*22/ اپریل 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad