تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

پیسہ، روپیہ کے لئے نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا کیسا ہے؟

0

پیسہ، روپیہ کے لئے نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا کیسا ہے؟

 

 پیسہ، روپیہ کے لئے نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ بکر نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتا ہے اور اسے کچھ لوگ پیسہ روپیہ دیتے ہیں نعت رسول پڑھنے کے دوران، زید کہتا ہے یہ اس لئے نعت رسول پڑھتا ہے کہ اسے زیادہ پیسہ روپیہ ملے گا ان دونوں میں سے کن کا کہنا صحیح ہے رہنمائی فرما کر جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

محمد صابر رضا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : اس میں تین صورتیں ہیں اگر وعظ کہنے اور حمد ونعت پڑھنے سے مقصود یہی ہے کہ لوگوں سے کچھ مال حاصل کریں تو بیشک اس آیۃ الکریمہ کے تحت میں داخل ہیں اور حکم " لا تشتروا باٰیتی ثمنا قلیلا " (میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ وصول کرو۔) کے مخالف۔وہ آمدنی ان کے حق میں خبیث ہے خصوصا جبکہ ایسے حاجتمند نہ ہوں جن کو سوال کی اجازت ہے کہ اب تو بے ضرورت سوال دوسرا حرام ہوگا اور وہ آمدنی خبیث تر وحرام مثل غصب ہے، عالمگیریہ میں ہے :ماجمع السائل بالتکدی فھو خبیث۔سائل نے کدوکاوش سے جوکچھ جمع کیا وہ ناپاک ہے۔دوسرے یہ کہ وعظ حمد ونعت سے ان کا مقصود محض اللہ ہے اور مسلمان بطور خود ان کی خدمت کریں تو یہ جائز ہے اور وہ مال حلال، تیسرے یہ کہ وعظ سے مقصود تو اللہ ہی ہو مگر ہے حاجتمند اور عادۃ معلوم ہے کہ لوگ خدمت کریں گے اس خدمت کی طمع بھی ساتھ لگی ہوئی ہے تو اگرچہ یہ صورت دوم کے مثل محمود نہیں مگر صور اولی کی طرح مذموم بھی نہیں جسے درمختار میں فرمایا :الوعظ لجمع المال من ضلالة الیھود و النصارٰی۔ مال جمع کرنے کے لئے وعظ کہنا یہود ونصارٰی کی گمراہیوں سے ہے۔یہ تیسری صور ت بین بین ہے اور دوم سے بہ نسبت اولٰی کے قریب تر ہے جس طرح حج کو جائے اور تجارت کا کچھ مال بھی ساتھ لے جائے جسے " لیس علیک جناح ان تبتغوا فضلامن ربکم"(تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی رزق حلال) تلاش کرو۔) فرمایا۔ لہذا فتوٰی اس کے جواز پر ہے۔افتی به الفقیه ابو اللیث رحمه ﷲ تعالي کما فی الخانیة والہندیة وغیرھما والذی ذکرته توفیق بین القولین وباﷲ التوفیق. حضرت فقیہ ابو اللیث سمر قندی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فتوٰی دیا ہے جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں اور فتاوٰی عالمگیری وغیرہ میں مذکور ہے اور جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ دو قولوں کے درمیان موافقت پیدا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی سے توفیق ہے( جلد 23 صفحہ 381)۔

  واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال ،الہند۔
*20/ ربیع الاول 1442ھ*
*7/ نومبر 2020ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad