باپ کی دولت پر بیٹے کو حق ہے یا نہیں؟ باپ اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو حصہ دے سکتا ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضویہ میں ہے : مذہب مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے، یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور للذکر مثل حظ الانثین۔(مرد کو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔) دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترک اولٰی ہے۔ ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے :الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی هو قول محمد ۔فتوٰی امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا، مرد کو دو اور عورت کو ایک، تین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کا مذہب ہے۔حاشیہ طحطاوی میں فتاوٰی بزازیہ سے ہے :الافضل فی هبة البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار ۔بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔( جلد 19 صفحہ 231)۔

