ترمذی شریف میں ہے: عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي حسين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الله ليدخل بالسهم الواحد ثلاثة الجنة، صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، والممد به، وقال: ارموا و اركبوا، ولان ترموا احب إلي من ان تركبوا، كل ما يلهو به الرجل المسلم باطل إلا رميه بقوسه، وتاديبه فرسه، وملاعبته اهله، فإنهن من الحق". ترجمہ : عبداللہ بن عبد الرحمٰن ابن ابی الحسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو“، آپ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو اور سواری سیکھو، تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں“۔( کتاب فضائل الجہاد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، باب ما جاء فی فضل الرمی فی سبیل اللہ حدیث 1637) (سنن ابن ماجہ کتاب الجہاد، باب الرمی فی سبیل اللہ حدیث 2811)۔قرآن مجید میں ہے : وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ. ترجمہ :گناہ اور عدوان پر مدد نہ کرو( سورہ مائدہ آیت 2)حدیث پاک میں ہے: من کان یومن باللہ والیوم الاٰخر فلایقفن مواقف التھم۔ ترجمہ:جوﷲ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہمت کی جگہ کھڑانہ ہو۔(بحوالہ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی، باب ادراک الفریضۃ صفحہ 249) در مختار مع ردالمحتار میں ہے: و كره تحريما اللعب بالنرد و كره كل لهو لقوله عليه السلام " كل لهو المسلم حرام إلا ثلثة اى كل لعب و عبث و الاطلاق شامل لنفس الفعل و استماعه و استماع ضرب الدف و المزمار و غير ذالك حرام.(ج 9ملخصا کتاب الحظر و الاباحة باب الاستبراء صفحہ 566 / 565)۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : مسلمان اتباع احکام شرع سے ہوتے ہیں نہ امور ناجائز سے تعزیہ پرجومٹھائی چڑھائی جاتی ہے اگر چہ حرام نہیں ہوجاتی مگر اس کے کھانے میں جاہلوں کی نظر میں ایک امر ناجائز شرعی کی وقعت بڑھانے اور اس کے ترک میں اس سے نفرت دلانی ہے لہٰذا نہ کھائی جائے۔جو مجلس میلاد شریف ان کے حرام مال سے کی جائے ان میں شرکت ہرگز نہ کی جائے،(جلد 24 صفحہ 492)اسی میں ہے : اور شطرنج کو اگر چہ بعض علمانے بعض روایات میں چند شرطوں کےساتھ جائز بتایا ہے : (۱) بدکر نہ ہو۔(۲) نادراً کبھی کبھی ہو عادت نہ ڈالیں۔(۳) اُس کے سبب نماز باجماعت خواہ کسی واجب شرعی میں خلل نہ آئے۔(۴) اُس پر قسمیں نہ کھایا کریں۔(۵) فحش نہ بکیں۔مگر تحقیق یہ کہ مطلقاً منع ہے اورحق یہ ہے کہ ان شرطوں کا نباہ ہرگز نہیں ہوتا خصوصاً شرط دوم وسوم کہ جب اس کاچسکا پڑجاتا ہےضرور مداومت کرتے ہیں اور لااقل وقت نماز میں تنگی یاجماعت میں غیرحاضری بیشک ہوتی ہے جیسا کہ تجربہ اس پر شاہد، اور بالفرض ہزار میں ایک آدھ آدمی ایسا نکلے کہ ان شرائط کا پورا لحاظ رکھے تو نادر پر حکم نہیں ہوتا۔وانما تبتنی الاحکام الفقھیة علی الغالب فلاینظر الی النادر ولا یحکم الا بالمنع کما افادہ المحقق فی الفتح فی مسئلة مجاورۃ الحرم وفی الدر فی مسئلة الحمام ۔فقہی احکام غالب حالات پر مبنی ہوتے ہیں لہذا نادر الوقوع پر نگاہ نہیں کی جاتی اس لئے ممانعت کا فیصلہ ہی کیاجائے گاجیساکہ محقق ابن ہمام نے فتح القدیر میں ہمسائیگی حرم کے مسئلہ میں افادہ بخشا۔اور درمختار مسئلہ حمام میں یہی فرمایاہے۔تو ٹھیک یہی ہے کہ اس سے مطلقاً ممانعت کی جائے۔( جلد 24 صفحہ 76)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
