تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Kiya har minnate shartiya ko ada karna zaruri hai_اگر کسی نے منت مانگی کہ فلاں کام ہو جائے گا تو میں روزہ یا دو رکعت نفل نماز پڑھیں گے اور اسکی منت پوری نہ ہوئی تو کیا پوری کرنا ضروری ہے یا نہیں؟؟

0

Kiya har minnate shartiya ko ada karna zaruri hai ؟؟

 

اگر کسی نے منت مانگی کہ فلاں کام ہو جائے گا تو میں روزہ یا دو رکعت نفل نماز پڑھیں گے اور اسکی منت پوری نہ ہوئی تو  کیا پوری کرنا ضروری ہے یا نہیں؟؟ 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضرت آپ کے بارے میں سوال یہ ہے کسی نے منت مانگی کہ فلاں کام ہو جائے گا تو میں روزہ یا دو رکعت نفل نماز پڑھیں گے اور اگر اسکی منت پورا نہ ہوا تو  کیا منت ادا کرنا ضروری ہے جواب عنایت فرمائیں

۔سائل : رفیق احمد قادری  مظفرپور بہار
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ الھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر وہ کام پورا ہو گیا تو منت کو پوری کرنا ضروری ہے اگر وہ کام پورا نہ ہوا تو منت کو پوری کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس نے شرط پر معلق کیا ہے جب شرط نہیں پائی گئی تو اس کا ادا کرنا بھی ضروری نہیں۔لہذا صورت مسئولہ میں منت کو پوری کرنا ضروری نہیں ہے۔

تنویر الابصار، در مختار مع ردالمحتار میں ہے:  (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب ووجد الشرط ) المعلق به ( لزم الناذر ) أي لزمه الوفاء به، والمراد انه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها. لحديث " من نذر وسمي فعليه الوفاء بما سمي" ترجمہ: جس نے مطلق نذر مانی یا شرط کے ساتھ معلق نذر مانی اور اس کی جنس میں سے واجب اور جس شرط کے ساتھ اس نے معلق کیا تھا وہ پائی گئی تو نذر ماننے والے پر اس کو پورا کرنا لازم ہو جائے گا۔ مراد ہوگا کہ قربت کی اصل کی وفا لازم ہوگی جس قربت کو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے : جس نے نذر مانی اور اس کا ذکر کیا تو اس نے جس امر کا ذکر کیا تو اس پر اس کی وفا لازم ہوگی۔ (ملخصا ج 5 کتاب الایمان صفحہ 516/515) بہار شریعت جلد دوم میں ہے: اوس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اوس کام کو معلق کیا ہومثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے (ملخصا حصہ 9 صفحہ 317 )۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ،اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*17/ صفر المظفر 1442ھ*
*5/ اکتوبر 2020ء *
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad