اگر کسی نے منت مانگی کہ فلاں کام ہو جائے گا تو میں روزہ یا دو رکعت نفل نماز پڑھیں گے اور اسکی منت پوری نہ ہوئی تو کیا پوری کرنا ضروری ہے یا نہیں؟؟
تنویر الابصار، در مختار مع ردالمحتار میں ہے: (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب ووجد الشرط ) المعلق به ( لزم الناذر ) أي لزمه الوفاء به، والمراد انه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها. لحديث " من نذر وسمي فعليه الوفاء بما سمي" ترجمہ: جس نے مطلق نذر مانی یا شرط کے ساتھ معلق نذر مانی اور اس کی جنس میں سے واجب اور جس شرط کے ساتھ اس نے معلق کیا تھا وہ پائی گئی تو نذر ماننے والے پر اس کو پورا کرنا لازم ہو جائے گا۔ مراد ہوگا کہ قربت کی اصل کی وفا لازم ہوگی جس قربت کو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے : جس نے نذر مانی اور اس کا ذکر کیا تو اس نے جس امر کا ذکر کیا تو اس پر اس کی وفا لازم ہوگی۔ (ملخصا ج 5 کتاب الایمان صفحہ 516/515) بہار شریعت جلد دوم میں ہے: اوس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اوس کام کو معلق کیا ہومثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے (ملخصا حصہ 9 صفحہ 317 )۔
