السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ کن کا عرس منانا چاہئے عام پبلک کا مانا سکتے ہیں یا نہیں جواب عنایت فرمائیں
سائل : بندہئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں صرف علمائے مشائخ اولیاء اللہ کا عرس منانا جائز ہے کیونکہ ان کی تعظیم و توقیر در حقیقت اسلام کی تعظیم ہے اور ان کے مزارات شعائر اللہ ہیں ان کے قبروں پر پھول ڈالنا،چادریں چڑھانا، چراغاں کرنا یہ سب ان کی تعظیم ہے۔عامة المسلمین کا عرس منانا منع ہے کیونکہ عرس عام رواج میں علمائے مشائخ اولیاء اللہ کے ساتھ خاص ہے عامة المسلمین کا عرس منانا منع ہے،ہاں ان کے نام سے عرس نہ منایا جائے بلکہ فاتحہ وایصال ثواب اور برسی سے موسوم کرے قرآن مجید میں ہے : ذٰلِكَ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّـٰهِ فَاِنَّـهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ۔ ترجمہ :بات یہ ہے ،اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے (پارہ 17 سورہ حج آیت 32)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، بنگال۔
*21 / محرم الحرام 1442ھ*
*10/ستمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Aslam alykum mufti sahib
ReplyDeleteUmeed kerta hn ap khariat se hn gy
Mera sawal hei k suhba tabaeen mei se kisi ney urs manaya hei?
Aur owlianALLAH beshak aik mere jaise muslman se khas muqam rekhte hain.jazak ALLAH
ماشاءاللہ قبلےمفتی مظہر صاحب جواب شما لاجواب است آپکا محمد نجم الدین پونہ
ReplyDelete