کیا مشترکہ فمیلی کے ہر افراد پر قربانی واجب ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفیان شرع متین مسئلے ذیل کے بارے میں زید نوکری کرتا ہے مگر وہ جتنا بھی روپیہ کماتا ہے وہ اپنے گھر والوں کو مالک بنا دیتا ہے اپنے پاس رقم نہیں رکھتا کیا ایسی صورت میں زید پر قربانی واجب ہے یا پھر انکے گھر والوں پر ہی قربانی کرنے کا شرعاً حکم ہے مفتیان کرام جواب عنایت فرمائیں مدلل و مفصل دلائل شرعیہ کے ساتھ
سائل:محمد رضوان قادری
_________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مذکورہ میں اگر زید نوکری کا روپیہ اپنے گھر والوں کو مالک بنا دیتا ہے مثلاً والدین کو دے دیتا ہے
جب تو تمام مالوں کا مالک والدین ہیں اور زید والدین کے عیال میں ہے یعنی ایک ہی فمیلی میں کھاتے پیتے رہتے ہیں تو اس صورت میں قربانی صرف والدین پر واجب ہے جبکہ والدین مالک نصاب ہو کیونکہ وہ مالک نصاب ہے اس مال کی وجہ سے زید پر قربانی واجب نہیں ہوگی ہاں اگر زید کے پاس اپنی ذاتی مال ہو اور قربانی کی شرائط پائے جائے تو ان پر قربانی واجب ہوگی اگر والدین مال تقسیم کر کے مالک بنا دیں اور اس کا حصہ بقدر نصاب ہے تو زید پر قربانی واجب ہے اگر بقدر نصاب نہ ہو اور دوسرا مال بھی نہ ہو جو نصاب تک پہنچ جائے تو واجب نہیں درمختار میں ہے : موسر يسار الفطرة عن نفسه لا عن طفله ۔ ترجمہ: اس مقدر والے پر جس کو فطرہ کا سا مقدور ہے قربانی واجب ہے اپنی ذات سے نہ اپنے طفل سے۔
(ج 9 کتاب الاضحیۃ صفحہ 458)
فتح القدیر میں ہے: الاضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى عن نفسه
ج 9 کتاب الاضحیۃ صفحہ519)
بحر الرائق میں ہے: تجب على حر مسلم موسر على نفسه قوله صلى الله تعالى عليه وسلم من وجد سعة ولم يضح فلا يقربن مصلان(ج 8 کتاب الاضحیۃ صفحہ 318)
بہار شریعت جلد سوم میں ہے: قربانی واجب ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ تونگری یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہ ہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوۃ واجب ہوتی ہے(حصہ 15 صفحہ 332)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
_________________
کتبہ : حـضـرت مفتی مـحـمـد مـظـہـر حسیـن سـعـدی رضـوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*بتاريخ، ۲۵ ذی القعدہ ٠۴۴١ھ*
*رابطہ؛📞8793969359)*
_________________

