السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے هیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسله ذیل میں کہ
شوہر کا انتقال هوگیا اور اس نے اپنے وارثین میں( بیوی ) اور ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہے ترکہ
بیس کٹھا زمین هے ان سبھوں کے درمیان مراث کس طرح تقسیم هوگا حکم شرع ارشاد فرمائیں۔
سائل : نسیم اختر
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
میت کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کوسارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔تو پورے جائداد کو چوبیس (24) حصے کئے جائیں گے، بیوی کو تین(3) حصے، ایک لڑکے کا چودہ (14) حصے، ایک لڑکی کا سات ( 7) حصے ملینگے۔۔
قرآن مجید میں ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَـرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّـهُنَّ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَـهُنَّ وَلَـدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَـرَكْنَ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّـةٍ يُّوْصِيْنَ بِـهَآ اَوْ دَيْنٍ " ترجمہ : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر۔( سورہ نساء آیت 12) دوسری جگہ ہے: يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ. ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4سورہ نساء آیت11)۔۔
لہذا ترکہ بیس کٹھا زمین میں سے بیوی کو دو کٹھا پانچ پوئینٹ (2.5)، ایک بیٹا کو گیارہ کٹھا سڑسٹھ پوئینٹ (11.67)، ایک بیٹی کو پانچ کٹھا تراسی پوئینٹ ( 5.83)، ملینگے۔۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*23/ جمادی الاخری 1442ھ*
*5/ فروری 2021ء*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰