تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Nam kaisa hona chahiye??------اللہ رکّھا، اللہ بخش، الٰہی بھائی، رحمٰن، رحیم، رزّاق،خالق،غفار،غفور، قیوم وغیرہ نام رکھنا یا پکارنا کیسا ہے؟

0

----اللہ رکّھا، اللہ بخش، الٰہی بھائی، رحمٰن، رحیم، رزّاق،خالق،غفار،غفور، قیوم وغیرہ نام رکھنا یا پکارنا کیسا ہے

 *‭‮‭‮◆اللہ رکّھا، اللہ بخش، الٰہی بھائی، رحمٰن، رحیم، رزّاق،خالق،غفار،غفور، قیوم وغیرہ نام رکھنا یا پکارنا کیسا ہے؟ ◆*

السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اللہ رکّھا ، اللہ بخش ، الٰہی بھائی ، رحمٰن ، رحیم، رزّاق،خالق،غفار،غفور، قیوم وغیرہ نام رکھنا یا پکارنا درست ہے اگر نہیں توکیا نام بدل دینا چاہیئے اور نام رکھنے والے (والدین )گناہگار ہونگے ؟

قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنايت فرما ئیں۔ 

 *🔸بندئہ خدا🔸*

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

اللہ رکّھا، اللہ بخش، نام رکھنا جائز ہے مگر الٰہی بھائی نام رکھنا منع ہے۔۔

(ا)

عبد کی نسبت اسماء صفاتیہ کے ساتھ رکھنا جائز ہے اور ﷲ تعالیٰ کے نزدیک بہت پیارے نام ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبد الرحمن، عبد الرحیم، عبد الرازق، عبد الخالق، عبد الغفار، عبد الغفور، عبد القیوم، اس شخص کو بہت سے لوگ رحمن، رحیم، رزّاق، خالق، غفار، غفور، قیوم کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن، رحیم، رزّاق، خالق، غفار، غفور، قیوم کہنا حرام ہے اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گمان ہو کہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں دوسرے نام رکھے جائیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : احب الاسماء إلي الله تعالى عبدالله و عبد الرحمن لكن التسمية بغير هذه الاسماء في هذا الزمان أولي لأن العوام يصغرون هذه الاسماء للنداء" (ج 5 کتاب الکراھیۃ،الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد۔۔إلخ،صفحہ 362)۔

بہار شریعت جلد سوم میں ہے: عبدﷲ وعبدالرحمن بہت اچھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبد الرحمن اوس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق اور عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گمان ہو کہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں دوسرے نام رکھے جائیں۔ (حصہ 15 صفحہ 358)۔۔_   


واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

 _کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند

*8/ رجب المرجب 1442ھ* 

*21/فروری 2021 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad