السلام علیکم ورحمتہ الله و برکاتہ
السـوال
علماۓ اکرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائںں کہ شوہر نے اپنی عورت کو طلاق دی بعد طلاق عورت نے عدت پوری کی اور دوسرے مرد سے نکاح کیاپھر اس دوسرے مرد نے بھی اس عورت کو طلاق دےدی اس عورت نے پھر عدت پوری کی اور پہلے والے شوہر سے پھر نکاح کرلیااب اس عورت کو بچہ ہوا یہ عورت کہتی ہے کہ یہ بچہ دوسرے والے مرد کا ہے لیکن وہ مرد اب اس بچے کو لینے سے انکار کرتا ہے کہ میں نے تو اب طلاق دے دی تو بچہ میرا کیسےاور پہلے والا مرد کہتا ہے کہ جب بچہ میرا ہے ہی نہیں تو میں کیسے لوں عورت کا کہنا یہ ہے کہ میں دوسرے شوہر سے حاملہ ہوئی۔لیکن پہلا شوہر اس بچے کو اپنانے سے ہی انکار کرتا ہےتو براۓ کرم اب مجھے یہ تین باتیں بتا دیجئے پہلی بات بچہ دوسرے شوہر کا ہے لیکن کیا اس بچے کو اب نسب پہلے شوہر کا ملیگا یا جس سے پیدا ہے اسی کا نسب ملیگا۔ *دوسری بات* اس بچے کو پہلا شوہر اپنانے سے انکار کرتا ہے۔ تو اس شوہر کا انکار کرنا صحیح ہے یا غلط *تیسری بات* شرعی طور پر اب اس بچے کو ولدیت کس کی ملیگی۔ جس سے یہ پیدا ہے اسکی یا جس کی ولدیت میں اب ہے اس کی۔یہ مسئلہ شاہجہانپور میں ہوا ہے اور اس مسئلے کو لیکر لوگ اپنی اپنی راۓ دے رہے ہیں اس لیئے خاص اس مسئلے میں رہنمائی فرمادیں
السائل ۔محمد خالد رضا
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجـــــوابـــــ: بعون الملک الوہاب
صورت مذکورہ میں بر صدق سوال جب نکاح اور رخصتی کے چھ ماہ یا اس سے زائد ( یعنی زیادہ سے زیادہ دو سال تک )پر بچہ جنی تو شرعاً بچہ اسی شخص کا ہے جس کے نکاح میں وہ عورت ہے اور اسی سے نسب ثابت ہوگا اور بچہ اسی کا مانا جائے گا۔ورنہ اگر چھ ماہ سے قبل بچہ پیدا ہوا تو شوہر دوم سے بچہ کا نسب ثابت ہوگا اور بچہ شوہر دوم ہی کا مانا جائے۔اگر عورت شوہر دوم کے طلاق کے وقت حاملہ تھی تو اس کی عدت وضع حمل ہے اور عدت کے دوران دوسرے سے نکاح جائز نہیں بخاری شریف میں ہے: قال سمعت أبا هريرة قال النبي صلى الله عليه وسلم الولد للفراش وللعاهر الحجر ۔
(( ج2 کتاب المحاربین باب للعاھر الحجر صفحہ 1007))
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: إذا تزوج امرأة فجاءت بالولد لأقل من ستة أشهر منذ تزوجها لم يثبت نسبه وان جاءت به لستة أشهر فصاعدا يثبت نسبه منه، ولو طلقها بعد الدخول ثم جاءت بولد يثبت النسب إلي سنتين ۔
یعنی مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس عورت نے نکاح کے وقت سے چھ مہینے سے کم پر لڑکا پیدا کیا تو وہ لڑکا ثابت النسب نہ ہوگا۔ ( یعنی شوہر کا نہیں مانا جائے گا )اور اگر چھ یا چھ ماہ سے زیادہ پر پیدا کیا تو شرع کے نزدیک وہ لڑکا شوہر کا ہے
(( ج1 الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب صفحہ 537/536))
ہدایہ میں ہے: و إذا تزوج الرجل امرأة فجاءت بولد لأقل من ستة أشهر منذ يوم تزوجها لم يثبت نسبه. وان جاءت به لستة أشهر فصاعدا يثبت نسبه منه، واكثر مدة الحمل سنتان۔
((ج1 باب ثبوت النسب صفحہ 433/432))
درمختار میں ہے : واقلها ستة أشهر إجماعا فيثبت نسب ولد، واكثر مدة الحمل سنتان ۔ (( ج5 فصل فی ثبوت النسب صفحہ 23)
قرآن مجید میں ہے: وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّؕ- ترجمہ: اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔
(پارہ 28 سورۃ الطلاق آیت ))
دوسری جگہ ہے : وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ- ترجمہ : اور حرام ہیں شوہر والی عورتیں۔مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری مِلک میں آجائیں۔
((پارہ5 سورۃ النساء، آیت 22))
لہذا بچہ کا نسب جس سے ثابت ہو جائے بچہ اسی کا ہوگا اور وہ اسے ضرور اپنائے، اسے صحیح تعلیم و تربیت دلائے اور اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرے جیساکہ اپنے دوسرے اولاد کے ساتھ کرتا ہے ۔
واللـــــــــہ تعالــی اعلـــم بالصـــــــــــــواب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حـضـرت عــــلامـہ و مـــولانا مفتـی محـمـــد مظہر حسین سعدی رضوی صــاحـب قــبلہ مــدظـلہ الـعالـی والــــنورانـی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال۔
*🌹مـــــوبائل نمـــــبر👇*
*📲https://wa.me/+918793969359*
*بتاریخ(1)جون2020بروز سوموار*
اـــــــــــــــــــــــــــــــــ

