تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Jota chappal ki dokan me Qur'an shaif ki talawat karna kaisa hai______جوتا چپل کی دوکان میں قرآن شریف کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟

0

Jota chappal ki dokan me Qur'an shaif ki talawat karna kaisa hai

 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کہ میں جوتا چپل کی دوکان میں نیچے قرآن شریف کی تلاوت کرتا ہوں اور جوتا اوپر لٹکا ہوا رہتا ہے تو کیا میں وہاں قرآن شریف پڑھ سکتا ہوں


 سائل : محمد رضا

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

بیٹھنے کا دارو و مدار عرف پر ہے اسی طرح تعظیم و توہین کا دارو و مدار بھی عرف ہی پر ہے قرآن مجید میں ہے: فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ ترجمہ : ان سے ہُوں،( اف تک ) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ (پارہ 15/سورہ بنی اسرائیل آیت 23)۔ آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اف یا دیگر کلمات سے کہنے سے تکلیف ہو وہاں کہنا منع ہے اس کے برعکس جائز ہے۔ بخاری شریف میں ہے : يقول: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" إنما الاعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها او إلى امراة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه" ترجمہ: یعنی ان کا بیان ہے کہ میں نے مسجد نبوی میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارو ومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہوگی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے(کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صفحہ 15)الاشباہ والنظائر میں ہے: الامور بمقاصدھا۔ ترجمہ : کام اپنے مقاصد پر مبنی ہیں۔(الفن الاول، القاعدۃ الثانیۃ صفحہ 23)۔۔  


لہذا مذکورہ بالا حوالہ سے اعیاں ہے ایسی جگہ جہاں نئے جوتا چپل اوپر رکھے ہو اس جگہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اگر وہاں کے عرف میں توہین سمجھا جاتا ہو تو جوتا چپل کی اس دوکان میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں۔اور اگر توہین نہیں سمجھا جاتا ہے تو جائز ہے۔۔  


واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔

*30/ ربیع الاخر 1442ھ* 

*16/ دسمبر 2020ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad