تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Nabina ke pichhe namaz hogi ya nahi? _____نابینا کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟

1

Nabina ke pichhe namaz hogi ya nahi?

 

 نابینا کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  حضور میرا سوال یہ ہے کہ عالم جو ایک آنکھ سے کانا ہے کیا ان کے پیچھے نماز ہوگی یا  نہیں اور اگر ان کو ان کے پیچھے نہیں ہوگی تو ان کی کیا صورت ہے اور اگر ہوگی تو آپ جواب سے نوازے مہربانی ہوگی

المستفتی : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
اگر وہ شخص صحیح العقیدہ،صحیح الطہارۃ، اورصحیح القراءۃ ہوں تو بلاشبہ اس کی اقتداء میں نماز جائز و درست ہے اگر جماعت میں کوئی دوسرا شخص اس سے بہتر ہو تو اس صورت میں اس کی امامت خلاف اولیٰ ہوگی مگر پھر بھی ناجائز نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی اس سے بچنا بہتر۔سنن ابو داؤد میں ہے :عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم استخلف إبن أم مكتوم يؤم الناس وهو اعمي. ترجمہ: حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ نبی اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر حضرت ابن ام مکتوم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو امامت پر مقرر فرمایا حالانکہ وہ نابینا تھے۔(کتاب الصلاۃ،باب امامۃ الاعمٰی، صفحہ 191)۔۔

مسلم شریف میں ہے :عن ابن شھاب : ان محمود بن الربیع الانصاری حدثه : ان عتبان بن مالک وھو من اصحاب رسول ﷲ صلی ﷲ تعالى علیہ وسلم ممن شھد بدرا من الانصار : انه اتی رسول ﷲ صلی ﷲ تعالى علیہ وسلم فقال : یا رسول ﷲ انی قد انکرت بصري، وانا اصلی لقومي،...الخ ۔ یعنی حضرت ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ محمود بن الربیع انصاری سے مروی ہے کہ حضر ت عتبان بن مالک جو انصاری اور بدری صحابیِ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں وہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے عرض کیا یا رسول ﷲ ! میری آنکھیں جواب دے گئی ہیں حالانکہ میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں الی آخر الحدیث تو آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے نماز ادا فرمائی تاکہ وہ اس جگہ کو اپنی نماز کی جگہ بنالیں۔(کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب الرخصۃ فی التخلف عن الجماعۃ بعذر،صفحہ 345)۔۔

درمختار میں ہے : یکرہ تنزیها امامة اعمی الا ان یکون اعلم القوم فھو اوليٰ. یعنی نابینے شخص کی امامت مکروہ تنزیہی ہے البتہ اس صورت میں اس کی امامت اولیٰ ہوگی جب وہ دوسروں سے زیادہ صاحب علم ہو۔(ج 2 کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ صفحہ 298)فتاویٰ ہندیہ میں ہے :و تجوز امامة الاعرابی والاعمی والعبد الا انها تکرہ. ملخصا۔ ترجمہ : اور اعرابی، نابینا اور غلام کی امامت جائز ہے البتہ مکروہ ہے ملخصاً۔( ج 1/کتاب الصلاۃ، الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ، صفحہ 85)۔۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اندھا اگر تمام موجودین میں سب سے زیادہ مسائل کا جاننے والا نہ ہو اور اس کے سوا دوسرا صحیح القرأت صحیح العقیدہ غیرفاسق معلن حاضر جماعت ہے تو اندھے کی امامت مکروہ تنزیہی ہے اور اگر وہی سب سے زیادہ علم نماز رکھتا ہے تو اسی کی امامت افضل ہے، اگر حاضرین میں دوسرا صحیح خواں بدمذہب یافاسق ملعن ہے اور اندھا ان سب عیبوں سے پاک ہے تو اسی کی امامت ضرور ہے، اور اگر صحیح خواں صرف وہی ہے جب تواصلاً دوسرا قابلِ امامت ہی نہیں۔( جلد 6 صفحہ 520)۔۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
_*حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند*_
*7/ جمادی الاخر 1442ھ*
*21/ جنوری 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad