کافروں سے کوئی سامان بندھک لیکر واپسی کے وقت جتنا روپیہ دیا تھا اس سے زیادہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته كيا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے تعلق سے کہ کیا کافروں سے کوئی سامان بندھک لیکر واپسی کے وقت جتنا روپیہ دیا تھا اس سے زیادہ لے سکتے ہیں براہ کرم جواب عنایت فرمائے
سائل : عبدالجبار رضوی سوناپور بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
کفار سے زیادہ لینا جائز ہے اگر چہ شرط کے ساتھ ہو، اگر چہ وہ سود ہی کہہ کر دیں مگر زیادتی سود سمجھ کر نہ لے بلکہ ایک مال مباح سمجھ کر لے۔ اس لیے کہ مسلمان اور غیر مسلم کے مابین سود کا تحقق نہیں۔۔
حدیث پاک میں ہے : قوله عليه السلام لاربابين المسلم والحربي في دارالحرب۔ ترجمہ: مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں کوئی سود نہیں (ہدایہ ج2 باب الربا صفحہ 86) فتح القدیر میں ہے : ولأبي حنيفة ومحمد ماروي مكحول عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال ولاربابين المسلم والحربي في دارالحرب ذكره محمد بن الحسن ولأن مال اهل الحرب في دارهم مباح بالاباحةالاصلية والمسلم المستأمن إنما منع من أخذه لعقدالامان حتى لا يلزم الغدر فاذابذلك الحربي ماله برضاه زال المعني الذي حظر لأجله.( ج7 باب الربا صفحہ 39) بحر الرائق میں ہے : الحديث لا ربا بين المسلم والحربي في دارالحرب ولأن مالهم مباح يعقد الامان منهم لم يصرمعصوما الا انه التزم أن لا يعترض لهم بغدر.( ج 6 باب الربا صفحہ 226) درمختار مع ردالمحتار میں ہے : و لا بين حربي ومسلم مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار ثمة لان ماله ثمة فيحل برضاه مطلقاً بلا غدر لان ماله غير معصوم فلا ربا إتفاقا ولم يهاجرا لا يستحق الربا بينهما أيضا. ( ملخصا ج7 باب الربا صفحہ 423)۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : یہاں کے کفار سے ایسی شرط جائز ہے لانھم غیر اھل ذمة ولامستامن (کیونکہ نہ تو وہ ذمی ہیں نہ مستامن) مگر یہ زیادت جو ملے اسے سود سمجھ کر نہ لے بلکہ مال مباح۔(۲) یہاں کے کفار سے جس طور ہو جائز ہے۔لان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا إذا لم یکن فیه غدر کما فی الھدایۃ و غيرها. ترجمہ : اس لئے کہ کفا رکا مال دار الحرب میں مباح ہے لہٰذا جس طریقے سے بھی مسلمان نے اس کو لیا تو اس نے مباح مال لیا بشرطیکہ دھوکا بازی نہ ہو، جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ ( جلد 17 صفحہ 350)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰