السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ زید نے قعدہ اولی میں تشہد سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتا ہے تو کیا زید پر سجدہ سہو کرنا واجب ہے یا نہیں
المستفتی : سلمان رضا ( بہار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجــــــــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــ بعـــــون المــلــــك الــــــوهــــــــــــاب
صورت مسولہ میں اگر زید بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو جان بوجھ کر پڑھتا ہے تو نماز نہیں ہوئی اسے سرے سے نماز پڑھنا واجب اور واجب الاعادہ ہے اور اگر بھول کر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتا ہے تو سجدہ سہو واجب ہے کیونکہ یہ آیت قرآنی ہے قیام کے علاوہ کسی رکن میں پڑھنا جائز نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: أن ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدا لا ۔( ج1 الباب الثانی عشر فی سجود السہو صفحہ 126)
اسی میں ہے: إذا بدأ في موضع التشهد بالقراءة ثم تشهد فعليه السهو۔ ترجمہ: جب اس نے تشہد کی جگہ میں قرأت پڑھا پھر تشہد پڑھا تو اس پر سجدہ سہو ہے(ج1 الباب الثانی عشر فی سجود السہو صفحہ 127)
ولو قرأ فی القعود إن قرأ قبل التشہد فی القعدتین فعلیہ السہو لترک واجب الابتداء بالتشہد أول الجلوس " اھ(طحطاوی صفحہ 250 )
فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان بسم اللہ شریف کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ شریف پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیت قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا اور جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے " اھ( ج 3 صفحہ 134 / 135 )
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپورہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہنــــــــــــــــد
*2/ محرم الحرام 1441ھ
2/ ستمبر 2019 ء*
*( موبائل نمبر 📞8793969359📲)*
اـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

