السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بعد سلام کے عرض یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے ہاتھ کی انگلی کاٹی ہو تو کیا وہ امامت کا حقدار نہیں ہو سکتا ہے
جی جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں
سائل : محمد اشتیاق رسول نواب گنج
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
اگر وہ شخص وضو و غسل صحیح طور پر ادا کرلیتا ہے اور ان کے اندر کوئی شرعی خرابی نہیں تو ایسے شخص کی امامت بلاشبہ جائز ہے۔
درمختار میں ہے: صح اقتداء قائم باحدب وأن بلغ حدبه الركوع علي المعتمد وكذا باعرج وغيره أولي ۔ ترجمہ: مختار قول پر سیدھا کھڑے ہونے والے کی نماز کبڑے شخص کے پیچھے درست ہے اگرچہ اس کا کبڑا پن رکوع کی حد تک ہو اسی طرح لنگڑے کا حکم ہے البتہ دوسرے آدمی کی امامت افضل واولیٰ ہے(ج2 کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ صفحہ 338مکتبۃ العلمیہ بیروت) فتاوی ہندیہ میں ہے: لوكان لقدم الامام عوج وقام علي بعضها يجوز وغيره أولي كذا في التبيين۔ ترجمہ : اگر امام کا پیر ٹیڑھا ہو اور اس کے بعض گھڑا ہو تو امامت جائز ہے اس کے علاوہ اولی ہے(ج1 الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ صفحہ 85بیروت) بہار شریعت جلد اول میں ہے: کھڑا ہوکر نماز پڑھنے والا بیٹھنے والے اور کوزہ پشت کی اقتدا کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا کُب حد رکوع کو پہنچا ہو، جس کے پاؤں میں ایسا لنگ ہے کہ پورا پاؤں زمین پر نہیں جمتا اوروں کی اِمامت کر سکتا ہے، مگر دوسرا شخص اَولیٰ ہے۔ ( حصہ 3 صفحہ 573 مکتبۃ المدینہ)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور ویسٹ بنگال، الہند۔
*11/ جمادی الاولی 1442ھ*
*28/ دسمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

