منت شرعی کا گوشت کون کون کھا سکتا ہے ؟
اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الـســــــوال
برائے کرم رہنمائی فرمائے کہ زید کی بیوی ہندہ اس کا بیٹا پیدا ہو تے ہی منت کی تھی کہ میں اپنے بیٹے کے ختنہ کے موقع پر ایک اونٹ قربانی کرونگی تو کیا اس اونٹ کا گوشت سارے لوگ کھا سکتے ہے؟
برائے کرم جواب عنا یت فرمائے
ســـائل:ســـگ مــديــنه محـــمد ابـراهيـــم قــادرى
وعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
الجوابـــــ بعون الملکــــ الوہابــــــ
صورت مذکورہ میں یہ نذر شرعی ہے اور اس نذر کو پوری کرنا ضروری ہے، اور اسکا گوشت فقراء و مساکین پر تقسیم کردے! ‼️ نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے! بلــــڪـــــہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے اور منت ماننے والا چاہے فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ سنن أبي داود میں ہے : حدثني ثابت بن الضحاك، قال:" نذر رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينحر إبلا ببوانة، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إني نذرت ان انحر إبلا ببوانة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هل كان فيها وثن من اوثان الجاهلية يعبد؟،قالوا: لا، قال: هل كان فيها عيد من اعيادهم؟،قالوا: لا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اوف بنذرك، فإنه لا وفاء لنذر في معصية الله، ولا فيما لا يملك ابن آدم". تــرجــمه : مجھ سے حدیث بیان کی حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں منّت مانی تھی کہ بُوّانہ میں ایک اونٹ کی قربانی کرے گا،حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے دریافت کیا؟ ارشاد فرمایا: کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بُت ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے؟
لوگوں نے عرض کی،نہیں۔. ارشاد فرمایا کیا وہاں جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہے؟
لوگوں نے عرض کی نہیں۔ ارشاد فرمایا: اپنی منّت پوری کر اس لیے کہ معصیت کے متعلق جو منّت ہے اوس کو پور ا نہ کیا جائے اور نہ وہ منّت جس کا انسان مالک نہیں۔(کتاب الأیمان و النذور، باب ما یؤمر بہ من الوفاء بالنذر، صفحہ 322 ۔)
بدائع الصنائع میں ہے : ام الذي يجب على الغني والفقير: فالمنذور به ، بأن قال لله علي أن اضحي شاة أو بدنة، أو هذه الشاة أو هذه البدنة، أو قال: جعلت هذه الشاة ضحية أو أضحية، وهو غني أو فقير،لان هذه قربة لله ( تعالى عز شأنه )، من جنسها ايجاب، والوجوب بسبب النذر يستوي فيه الفقير والغني، تــرجــمه : وہ قربانی جو امیر وغریب دونوں پر واجب ہے یہ قربانی" نذر" کی ہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ کہے اللہ تعالی کیلئے مجھ پر ایک بکری یا اونٹ یا یہ بکری یا یہ اونٹ قربانی کرنا ضروری ہے یا وہ کہے : "میں نے اس بکری کو قربانی کیلئے بنا دیا" تو خواہ وہ امیر ہو یا غریب اس پر قربانی ضروری ہو جائے گی۔اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عبادت( قربانی ) ہے جس کی جنس سے واجب الادا عبادت موجود ہے اور جس شیی کا وجوب نذر کی بنا پر ہو اس میں فقیر اور مالدار سب برابر ہوتے ہیں( ج 6 کتاب الاضحیۃ 275)۔
تبیین الحقائق میں ہے : وان وجبت بالنذر فليس لصاحبها أن يؤكل منها شيئا ولا ان يطعم غيره من الاغنياسواء كان الناذر غنيااو فقيرا لان سبيلها التصدق وليس للمتصدق ان ياكل من صدقته ولا أن يطعم الاغنياء(ج 6 كتاب الاضحية صفحہ 8)
بحر الرائق میں ہے : وانما وجبت بالنذر فليس لصاحبها أن يؤكل منها شيئا ولا ان يطعم غيره من الاغنياسواء كان الناذر غنيااو فقيرا لان سبيلها التصدق وليس للمتصدق ان ياكل من صدقته ولا أن يطعم الاغنياء۔ (کتاب الضحیۃ صفحہ327)درمختار مع ردالمحتار میں ہے وهو مصرف أیضا لصدقة الفطر والکفارة والنذر واغیر ذلک من الصدقات الواجبة (ج 3کتاب الزکاة باب المصرف صفحہ 283)۔
اسی میں ہے: وان وجبت بہ (النذر) فلا یأکل منہا شیئا، ولا یطعم غنیا ًسواء کان الناذر غنیا أو فقیرا؛ لأن سبیلہا التصدق، ولیس للمتصدق ذلک۔(ج 9 کتاب الأضحیة صفحہ 473)
بہار شریعت جلد دوم میں ہے : قربانی اگر منت کی ہے تواسکا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے اور منت ماننے والا چاہے فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے۔ (قربانی کے جانور کا بیان حصہ 15 صفحہ 345)۔
واللــه و رســوله اعــلم بالصــواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
حضــرت عـــلامــه ومــولانــا مـفــتى محـــــمد مـــظہـر حســـين سعــدى رضــوى صـــاحــب قبــله مــدظلــه العــالى والــنورانی،خــادم سعدی دار الافتــاء،متوطن: نــل بــاڑی، سـونـا پـور،اتــر دینـــاجـپور، بنـــگال۔
رابـطـــہ نـمبـــر»
مؤرخہ: (٠٦) ربـــيع الـــنور ٢٤٤١ھ
مــطابــق (٢٤) اڪـتوبــر ٠٢٠٢ء


ماشاء اللہ
ReplyDeleteالسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ReplyDeleteمنت والی قربانی میں شرکت جائز ہے یا نہیں اگر جائز نہیں تو اس کے شرکاء کے گوشت کا کیا حکم ہے
ال
ReplyDeleteالسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ReplyDeleteالسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ReplyDeleteعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
Delete