تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

اگر بیٹا اپنے بھائی، بہن اور ماں کو پروپٹی کا حصہ نہ دے تو ایسے بیٹے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟؟؟

0


‭‮‭

اگر بیٹا اپنے بھائی، بہن اور ماں کو پروپٹی کا حصہ نہ دے تو ایسے بیٹے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟؟؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے زید کے والد کا انتقال ہوگیا زید کے والد کافی جائداد چھوڑ کر گئے جیسے انتقال ہوا اس نے سارے پروپٹی اپنے قبضے میں کر لی اور بھائی بہن یہاں تک کہ اپنی ماں کو بھی کچھ نہ دیا اب زید پر کیا حکم ہے اور زید کی ماں اب کیا کریں 

برائے کرم مدلل جواب عنایت فرمائیں 

 

سائل : حافظ محمد ندیم حسین۔مرادآباد

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی

 زید نے شرع کے مطابق ترکہ تقسیم سے قبل اپنے قبضہ میں پوری پروپٹی لے لینا ظلم و ناجائز ہے اور بھائی، بہن اور ماں کو نہ دینا سخت ناجائز و حرام ہے زید پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی، بہن اور ماں کا حق ترکہ سے دے اور بھائی، بہن اور ماں سے معافی بھی مانگے ورنہ وہ سخت عذاب نار کے مستحق ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ " ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔( سورہ بقرہ آیت 188)دوسری جگہ ہے : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَهُمْ اٖلَيٰ أَمْوَالِكُمْ " ترجمہ : اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ ( سورہ نساء آیت2) تیسری جگہ ہے : " إِنَّمَا يَأْكُلُوْنَ فِي بُطُوْنِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا " ترجمہ : وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے ( بھڑکتی آگ ) میں جائیں گے ( سورہ نساء آیت 10 )چوتھی جگہ ہے : " يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ" ترجمہ : اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (سورہ نساء آیت 29)۔مسلم شریف میں ہے : " عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا، المسلم اخو المسلم : لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره، التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئي من الشر ان يحقر اخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام : دمه، وماله، وعرضه" ۔(كتاب البر و الصلة والاداب، باب تحريم الظلم المسلم الخ )۔

 وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔

*13/ شعبان المعظم 1442ھ * 

*27/ مارچ 2021ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad