تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

kapra surin ke darmiyan chipak jai to namaz hogi ya nahi ____کپڑا سرین کے درمیان چپک جائے تو نماز ہوگی یا نہیں؟؟؟

0

Imam ka kapra surin ke darmiyan chipak jai to namaz hogi ya nahi

  

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں مسئلہ ہے اگر ایک امام کی عادت ہوگئی ہوں کہ اس کے پاخانہ کے راستے میں کپڑا اٹک جائے تو اسے دونوں ہاتھ سے نکالے تو کیا نماز ہوگی یا نہیں  برائے کرم جواب عنایت فرمائیں لکھنے میں غلطی ہوئی ہو تو اس کے لیے  معافی چاہتا ہوں۔

سائل : حافظ محمد منتظر بہار شریف

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

کپڑا سمیٹنا، مثلاً سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پیچھے سے دامن یا دوسرا کوئی کپڑا اٹھانا یا پاجامہ کو دونوں ہاتھ سے کھینچنا، اگرچہ گرد سے بچانے کے لیے کیا ہو اور اگر بلا وجہ ہو تو اور زیادہ مکروہ۔صحیح مسلم میں ہےکہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:امرت ان اسجد علی سبعة اعضاء وان لااکف شعرا ولا ثوبا رواہ الستة عن ابن عباس رضی ﷲ تعالي عنھما" ترجمہ : مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم دیا گیا ہے اور اس بات کاحکم ہے کہ بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں، اس روایت کو صحاح ستّہ نے حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔(ج 1کتاب الصلاۃ، باب اعضاء السجود صفحہ 193)درمختار ہے :کرہ سدل ثوبه وکرہ کفه ای رفعه ولو لتراب کمشمر کما وذیل" ترجمہ : کپڑے کا لٹکانا اسی طرح کپڑے کا اٹھانا بھی مکروہ ہے اگرچہ کیچڑ کی وجہ سے ہو جیسے کوئی آدمی آستین اور دامن اٹھالے۔(ج 1 کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا، صفحہ91 )۔ردالمحتار میں ہے: حررالخیر الرملی مایفید ان الکراھة فیه تحریمیة" ترجمہ :شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے۔(ج کتاب الصلاۃ، مطلب مکروہات الصلوٰۃ صفحہ 473)بہار شریعت جلد اول میں ہے : کپڑے یا داڑھی یا بدن کے ساتھ کھیلنا، (۲) کپڑا سمیٹنا، مثلاً سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پیچھے سے اٹھا لینا، اگرچہ گرد سے بچانے کے لیے کیا ہو اور اگر بلا وجہ ہو تو اور زیادہ مکروہ۔ ( حصہ 3 صفحہ 624)۔

لہذا امام کا کپڑا چپک جائے تو اسے اپنی حالت پر چھوڑ دے، اسے ہٹانے میں عادت بنالینا یہ مکروہ تحریمی ہے۔

 وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا،، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند

*25/ شعبان المعظم 1442ھ * 

*8/ اپریل 2021ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad