السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ وتر کی جماعت ہو رہی تھی میں دوسری رکعت میں شامل ہوا تو کیا مجھے بھی فوت شدہ رکعت میں قنوت پڑھنی چاہئے یانہیں؟
سائل : محمد تحسین رضا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
فتاویٰ رضویہ میں ہے : مسبوق کی اگر وتر کی تینوں رکعتیں فوت ہوئیں اخیر میں قنوت پڑھے اور اگر ایک رکعت بھی ملی ہے اگرچہ تیسری کے رکوع ہی میں شامل ہوا تو اب باقی نماز میں قنوت نہ پڑھے گا۔ در مختار میں ہے: المسبوق فیقنت مع امامه فقط ویصیر مدرکاً بادراک الرکوع الثالثة "مسبوق امام کے ساتھ صرف قنوت پڑھے اور وہ تیسری رکعت کا رکوع پانے سے مدرک ہوجائے گا۔ (جلد 7/ صفحہ 484)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
3/ ذی القعدہ 1442ھ
14/ جون 2021ء
*مرابطــــہ نمبــــر📞8793969359☎
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

