السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ہندہ کی شادی زید سے ہوئی تھی شادی کے تین سال بعد اس وقت جو وبائی مرض پھیلا ہے اس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حکومت کرناٹک کے جانب سے ایک روم میں ہندہ کو کورنٹائن کر دیا گیا تھا ساتھ ہی اسی روم میں عمر کو بھی کورنٹائن کیا گیا تھا اسی دوران ہندہ اور عمر میں غیر شرعی تعلقات ہوگئے بایں وجہ لوگوں نے عمر کو زدوکوب کیا اور گاؤں کے چند لوگوں نے مل کر ہندہ کا زید سے خلع کرالیا اور خلع کے دو دن بعد ہندہ کا نکاح عمر سے کرا دیا گیا کیا یہ نکاح درست ہوا یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی طالب دعا وہ جواب۔
عبدالکریم رضوی وہ الحاج ملک صاحب بلگی الکل
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں قاضی صاحب کا عدت کے اندر نکاح پڑھانا ناجائز و حرام،نکاح نہیں ہوا خواہ جانتے ہوئے یا انجانے میں ہو کیونکہ وہ منکوحہ کے حکم میں ہے اور کسی کی منکوحہ سے نکاح جائز نہیں ہے۔قرآن مجید میں ہے : "وَالْمُحْصِنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ " ترجمہ : اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں۔( پارہ 5 سورہ نساء آیت 24)دوسری جگہ ہے : "يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ الِّنسَآءِ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ "۔( پارہ 28 سورہ طلاق آیت 1)فتاویٰ ہندیہ میں ہے : "لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة سوا كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح"(ج1 القسم السادس المحرمات التی یتعلق بھا حق الغیر صفحہ 280)۔
لہذا قاضی صاحب پر لازم ہے کہ وہ فوراً اعلان کر دے کہ نکاح نہیں ہوا ہو ہے اور ان دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے فوراً جدا ہو جائیں اور جو لوگ اس صورت حال سے آگاہ ہوکر شریک ہوئے اور قاضی صاحب نے نکاح پڑھایا وہ سب کے سب سخت گناہ گاہ اور عذاب نار کے مستحق ہیں ان سب پر اعلانیہ توبہ واستغفار لازم ہے۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*21/ رمضان المبارک 1442ھ *
*4/ مئ 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

