مرنے کے بعد دین مہرکیسے ادا کرے؟اور اس دین مہر کا حقدار کون ہے؟؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
مفتی صاحب رہنماٸی فرماٸیں کہ زید کی شادی ایک ہفتہ پہلے ہوئی وطی اور خلوت صحیحہ ہو گئی تھی تین دن کے بعد زید کی بیوی انتقال ہو گئی زید دین مہر ادا نہیں کیا تھا تواب زید دین مہر کس طرح ادا کرےگا۔ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرما دیں بہت مہربانی ہوگی
ساٸل ۔۔۔محمد صدام حسین بوکارو جھارکھنڈ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں کل مہر مسمی زید پر ادا کرنا لازم ہے اور مہر کا حقدار ان کے وارثین ہیں اگر اس کے بالغ وارثین اجازت دے دیں تو اس کے نام سے ایصالِ ثواب کر دے ورنہ وہ سب اپنی میراث کا حقدار ہیں زید نصف حصہ کا خود وارث ہے بقیہ دیگر ورثاء۔ ملتقی الابحر شرح مجمع الانہر میں ہے : للولی انکح الصغیرہ والصغیرۃ فان مات احدھما ورثہ الاٰ خر بلغا اولا ویجب المہر کلہ وان مات قبل الدخول" ترجمہ : ولی کو نابالغہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کردینے کا اختیار ہے۔پھر اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرا وارث ہوگا اور پورا مہر واجب ہوگا بالغ ہوں یا نابالغ، اگر چہ وہ دخول سے قبل ہی فوت ہوگیا ہو۔(ج1/ باب الاولیاء والاکفاء، صفحہ 325)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : وارثانِ زن میں جو عاقل بالغ معاف کرے گا اُس کا حصّہ معاف ہوجائے گا اگر سب عاقل بالغ ہوں اور سب معاف کردیں تو سب معاف ہوجائے گا۔ ( جلد 12/ صفحہ 177)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*9/ شوال المکرم 1442ھ *
*22/ مارچ 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

