تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Dusre ki zamin ko apana kahkar bech de ise shakhs ke haq me shariyat ka kiya hukme hai?______ دوسرے کی زمین کو اپنا کہہ کر بیچ دے ایسے شخص کے حق میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

0

Dusre ki zamin ko apana kahkar bech de ise shakhs ke haq me shariyat ka kiya hukme hai?

 دوسرے کی زمین کو اپنا کہہ کر بیچ دے ایسے شخص کے حق میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں

زید نے بکر کی زمین بکر کو بغیراطلاع کئے 5000 روپئے گزبیچ دی اور بکرکوفروخت شدہ زمین کی رقم بھی نہ دی اسی لاعلمی میں کئی سال گزر گئے

اب معلوم ہونے کے بعد اسکاحساب ہوتا ھے تو کیا زید بکر کووہی 5000 روپے کے حساب سے رقم دیگا یاجو آج کا ریٹ چل رہاھے اس حساب سے بکرکورقم دی جائیگی اور آج کا ریٹ دوگنا یعنی 10000 روپے گز ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے

اور زید نے اس رقم کوجب سے ہی اپنے کاروبار میں لگا رکھی ھے

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر آج کے ریٹ کی رقم چاہتا ہے؟

اور بکر کو بغیر اطلاع کئے اسکے پیسہ کو اپنے کاروبار میں لگانا جائز ہے؟

اور جواسکاروبار سے پیسہ کمایا ہے اس پیسہ کا کیا حکم ہے 

ان تمام جزئیات کے جوابات مع حوالۂ کتب تحریر فرمائیں نیز جزئیات کا ترجمہ بھی فرمادینا


سائل  : اثراحمد روڑکی ضلع ہریدوار اتراکھنڈ

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

جو اشیاء مالک کو بتائے بغیر بیچی جائے وہ بیع مالک کی اجازت پر موقوف رہتی ہے اور قبل اجازت اس میں کوئی اس کا مالک نہ ہوگا،نہ اس کا تصرف جائز ہو۔ ہاں معلوم ہونے کے بعد جس بیع کو نافذ کر دے تو نافذ ہو جائیگی جبکہ بائع و مشتری ومبیع قائم ہوں۔ بکر جتنے پیسے میں اجازت دیدے تو بیع منعقد ہو جائے گی ورنہ نہیں۔ زید سخت گناہگار ہے اس پیسے سے حلال کاروبار میں جو نافع حاصل ہوا وہ زید کے لئے جائز ہے۔فتاوٰی قاضی خان میں ہے : اذا باع الرجل مال الغیر عندنا، یتوقف البیع علی اجازۃ المالک، ویشترط لصحة الاجازۃ قیام العاقدین، و قيام المقعود علیه"(ج2/ کتاب البیوع، فصل فی البیع الموقوف، صفحہ 56)۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : اذا باع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالک ویشترط لصحة الاجازۃ قیام العاقدین و المقعود علیه" ترجمہ : جب کسی شخص نے غیر کا مال فروخت کیا تو ہمارے نزدیک یہ بیع مالک کی اجازت پر موقوف ہوگی اور اجازت کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ عاقدین اور معقود علیہ قائم ہو، ( ج3/ کتاب البیوع، الباب الثالث عشر، صفحہ 152)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : جو چیز بے اطلاع مالک بیچی جائے وہ بیع اجازت مالک پر موقوف رہتی ہے قبل از اجازت اگر سو بیعیں یکے بعد دیگرے ہوں سب اسی کی اجازت پر موقوف رہیں گی اور قبل اجازت اس میں کوئی اس کا مالک نہ ہوگا نہ اس کا تصرف جائز ہو، ہاں بعد اطلاع جس بیع کہ وہ نافذ کردے نافذ ہو جائیگی جبکہ بائع ومشتری وبیع قائم ہوں۔( مخلصا جلد 17/ صفحہ 210)۔   

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔

*18/ شوال المکرم 1442ھ * 

*31/ مئ 2021ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰





Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad