السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا ایک لڑکا ہوا جب لڑکا ہو رہا تھا ہسپتال میں تو زید نے ایک منت مانگی کہ اگر اللہ تعالٰی میرے بچے کو صحیح سلامتی کے ساتھ رکھا تو میں ایک جانور قربانی دونگا (یہ رہی منت)۔ ابھی بچہ سلامتی کے ساتھ گھر پر لایا گیا ارو عقیقہ میں بھی جانور ذبح کرنا ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایک ہی جانور سے منت اور عقیقہ ہو سکتی ہے۔ یا نہیں ؟؟؟
آپ تمامی حضرات سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کو حل کریں مع حوالہ کے ساتھ۔
سائل : محمد صدیق عالم دیناجپوری
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
یہ منت شرعی ہے اسکا گوشت فقراء و مساکین پر تقسیم کردے نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے اور منت ماننے والا چاہے فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔درمختار مع ردالمحتار میں ہے : وهو مصرف أیضا لصدقة الفطر والکفارة والنذر واغیر ذلک من الصدقات الواجبة"(ج 3کتاب الزکاة باب المصرف صفحہ 283)اسی میں ہے : وان وجبت بہ (النذر) فلا یأکل منہا شیئا، ولا یطعم غنیا ًسواء کان الناذر غنیا أو فقیرا؛ لأن سبیلہا التصدق، ولیس للمتصدق ذلک"(ج 9 کتاب الأضحیة صفحہ 473)بہار شریعت جلد دوم میں ہے : قربانی اگر منت کی ہے تواسکا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے اور منت ماننے والا چاہے فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے۔ (قربانی کے جانور کا بیان حصہ 15 صفحہ 345)۔
لہذا صورت مسئولہ میں ایک ہی جانور سے منت اور عقیقہ نہیں ہو سکتا ہے بلکہ الگ الگ کرنا ضروری ہے اور منت کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو فقراء و مساکین پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ اور عقیقہ کا گوشت سب کھا سکتے ہیں خواہ فقراء و مساکین، اغنیاء، رشتہ دار ہو۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*7/ شوال المکرم 1442ھ *
*20/ مارچ 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

