السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا غیر مسلم لڑکی کو مسلمان بنا کر اس سے نکاح کرسکتے ہیں جبکہ لڑکی کی رضامندی اسی میں ہے کہ میں مسلمان ہو کر مسلمان لڑکے سے نکاح کروں اور اس بات سے لڑکی کے گھر والوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے اگر اس حالت میں مسلمان لڑکا نکاح کرسکتا ہےتو شرائط کیا ہونگے
براۓ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل جواب جلد ازجلد عنایت فرمائیں
سوال کرنے یا لکھنے میں کسی طرح کی غلطی ہوئی ہوں تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں
طالب علم : محمد حسین دار جلنگ بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
جب غیر مسلم لڑکی اپنی رضامندی سے اسلام قبول کرلے تو بعد اسلام فوراً اس سے نکاح کرنا درست ہے اور اس کے ساتھ نکاح کرانا بھی جائز ہے۔نکاح کے شرائط وہی ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَلاَ تَنْكِحُوْا الْمُشْرِكاَتِ حَتّٰي يُؤْمِنَّ" ترجمہ: مشرکہ عورت سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائے۔( پارہ 2 سورہ بقرہ آیت221)اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ احمد ملا جیون تفسیرات احمدیہ میں فرماتے ہیں: هذه الآية تدل على عدم جواز نكاح المؤمنين مع المشاركات۔ ترجمہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ مومنین کا نکاح کافرہ عورتوں کے ساتھ عدم جائز پر۔(صفحہ 79)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*24/ شعبان المعظم 1442ھ*
*7/ اپریل 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

