السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ
بائع مشتری کو مبیع اس شرط پر سپرد کرے کہ ثمن جب چاہونگا لونگا وہ بھی اس بھاو کے حساب سے جو حصول ثمن کے وقت ہوگا نہ کہ وقت سپرد مبیع کے بھاؤ سے اب بائع ثمن ایسے وقت میں لیتا ہے جبکہ مبیع بہت زیادہ مہنگی ہو جاتی ہے
ایسی بیع کا عندالشرع کیا حکم ہے؟
سائل : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
مبیع اور ثمن کی مقدار معلوم ہونا ضرور ہے اور ثمن کا وصف بھی معلوم ہونا ضرور ہے کہ بیع کے جائز ہونے کی شرائط میں ایک شرط یہ ہے کہ مبیع و ثمن دونوں اس طرح معلوم ہوں کہ نزاع پیدا نہ ہوسکے۔اگر مجہول ہوں کہ نزاع ہوسکتی ہو تو بیع صحیح نہیں مثلاً اس ریوڑ میں سے ایک بکری بیچی یا اس چیز کو واجبی دام پر بیچا یا اُس قیمت پر بیچا جو فلاں شخص بتائے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : و منها أن يكون المبيع معلوما و الثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تقضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع و بيع شيء بقيمته و حكم فلان" ( ج3/ کتاب البیوع،الباب الاول فی تعریف البیع، صفحہ 3) رد المحتار میں ہے : و منها معلومية المبيع، معلومية الثمن بما يرفع المنازعة فلا يصح بيع شاة من هذا القطيع و بيع الشيء بقيمته أو بحكم فلان، و خلوه عن شرط مفسد" ( ج 7/کتاب البیوع، مطلب: شرائط البیع انواع اربعۃ، صفحہ 15)۔
لہذا بیع میں اس طرح کی شرط لگانا جائز نہیں۔جس میں ثمن معلوم نہ ہو۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*16/ شوال المکرم 1442ھ*
*29/ مئ 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

