تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Qurbani ki khal ka paisa masjid ke kam me lagaya jasakta hai ya nahi.....قربانی کی کھال کا پیسہ مسجد کے کام میں لگایا جاسکتا ہے یا نہیں؟؟؟

0

Qurbani ki khal ka paisa masjid ke kam me lagaya jasakta hai ya nahi.....

 

السلام عليكم

کیا فرماتے علمائے کرام کہ

قربانی کی کھال کا پیسہ مسجد کے کام لگایا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

برائے کرم جوابات سے مطمئین کریں

عبد الوہاب۔۔۔بنگال

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

 قربانی کی کھال ہر اس کا م میں صرف کرسکتے ہیں جو قربت وکار خیر وباعث ثواب ہو،حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قربانی کی نسبت فرماتے ہیں:کلوا وادخروا وائتجروا " ترجمہ : کھاؤ اور اٹھا رکھو اور وہ کام کرو جس سے ثواب ہو۔( سنن ابی داؤد،کتاب الضحایا،باب فی حبس لحوم الاضاحی، رقم الحدیث 2813، ) فتاویٰ رضویہ میں ہے :اگر کھالیں صرف مسجد کے لئے پہلے سے دے دی جائیں یا ان کا داموں کے عوض بیچنا اپنے صرف میں لانے کے لئے نہ ہو بلکہ امور قربت وثواب کی غرض سے ہوں تو ان داموں کا مسجد کے صرف کے لئے دے دینا، یہ دونوں صورتیں جائز ہیں، اور اگر کھالیں اپنے صرف میں لانے کے لئے داموں کو بیچ ڈالیں تو یہ دام مسجد میں صرف نہیں ہوسکتے بلکہ مساکین کو دے دئے جائیں، جس مسکین کو دے وہ اپنی طرف سے مسجد میں لگادے تو مضائقہ نہیں۔وذٰلک لان الطریق فی الجلود اما الادخار واما الائتجار، فاذا اعطا ہا المسجد، اوباعہا لامور القرب، واعطی الثمن فیه، فقد اتی بما ینبغی، اما اذا باعها للتمول، فقد خالف فما حصل خبیث، وسبیله التصدق، وانما التصدق تملیک للفقیر اما اذا ملک فقیر، فاعطی المسجد فلا حرج، فان الصدقة قد بلغت محلہا"یہ اس لئے کہ قربانی کی کھالوں میں طریق ذخیرہ کرنا یا اجر وثواب حاصل کرنا ہے تو جب مسجد کو دیں یا ان کو فروخت کرکے تقرب والے امور کے لئے یا ان کی قیمت ان امور میں خرچ کرنے کے لیے تو اس نے مناسب محل پورا کردیا لیکن اگر مال حاصل کرنے کی غرض سے فروخت کیا تو خلاف ورزی کی لہذا جو مال بنایا خبیث ہوا اس کا راستہ یہی ہے۔ کہ اس کو صدقہ کرے جبکہ صدقہ فقیر کو مالک بنانا ہے تو فقیر کو مالک بنایا تو اس نے مسجد کو دے دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ صدقہ اپنے محل پہنچ چکا ہے۔( جلد 20/ صفحہ 472)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_ 

حضرت  مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند

*16/ شوال المکرم 1442ھ* 

*29/ مئ 2021ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad