السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ سونا یا چاندی کے ذریعہ نصاب مکمل ہوتا ہے مگر یہ سونا چاندی وغیرہ گروی رکھا ہوا ہے تو ایسے شخص کو قربانی کرنی ہوگی یا نہیں ؟
برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں
طالب علم - محمد حسین، دارجلنگ بنگال
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
جو زیور گروی میں رکھا ہوا ہے اس پر قربانی نہیں، نہ راہن پر ہے اور نہ مرتہن پر ہے کیونکہ مرتہن اس کا مالک نہیں اور راہن کا اس پر قبضہ نہیں۔ البتہ اگر وہ ایام نحر میں مرتہن اس کا مالک ہو جائے اور راہن کا اس پر قبضہ ہو جائے تو پھر قربانی واجب ہو جائے گی۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ولا علي الراهن اذا كان الرهن في يد المرتهن هكذا في البحر الرائق " (ج1 کتاب الزکاۃ، الباب الاول فی تفسیرہ الخ۔۔۔صفحہ 172) در مختار مع رد المحتار میں ہے : ( و لا في مرهون ) أي لا علي المرتهن لعدم ملك الرقبة، و لا علي الراهن لعدم اليد، (ج3 کتاب الزکاۃ، صفحہ 180) البحر الرائق میں ہے : و من موانع الوجوب الرهن إذا كان في يد المرتهن لعدم ملك اليد كذا في العناية " ( ج 2 کتاب الزکاۃ، صفحہ 355) بہار شریعت جلد اول میں ہے : شے مرہُون (یعنی جو چیز گروی رکھی گئی ہے)کی زکاۃ نہ مرتہن (یعنی جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی ہو) پر ہے، نہ راہن (یعنی گروی رکھنے والا) پر، مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکاۃ واجب نہیں ۔( حصہ پنجم، صفحہ 877 )۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند
*30/ ذی القعدہ 1442ھ*
*11/ جولائی2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

