تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Maiyat ko galane ke liye kimikal dalna jaiz hai ya nahi.....میت کو گلانے کے لئے کیمکل ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟؟؟؟

0

Maiyat ko galane ke liye kimikal dalna jaiz hai ya nahi.....

میت کو گلانے کے لئے کیمکل ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟؟؟؟؟  

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے یہاں جب میت کو دفناتے ہیں تو میت کے اوپر کیمکل ڈالا جاتا ہے تاکہ میت جلدی گل جائے اس طرح کرنا کیسا ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں 

  

 شیخ انصار علی ممبئی

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ

صورت مسئولہ میں میت پر کیمکل ڈال کر میت کو جلدی گلانا یہ میت کو ایذا دینا ہے اور میت کو ایذا دینا جائز نہیں۔سنن ابوداؤد میں ہے: کسر عظم المیّت یوذیه فی قبرہ ما یوذیه فی بیته ۔مُردے کی ہڈیاں توڑنا اور اسے ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندے کی ہڈی توڑنا(ج 2 کتاب الجنائز صفحہ 102 آفتاب عالم پریس لاہور)۔مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ ابن ابی شیبہ میں ہے: وقال عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالى عنه اذی المومن فی موته کاذاہ فی حیاته ۔حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالى عنہ فرماتے ہیں: بحالت وفات مومن کو ایذا دینا ایسے ہے جیسے اسے زندگی میں ایذا دینا۔(ج4 باب دفن المیّت صفحہ 79 مکتبہ امدادیہ ملتان )۔مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ الطبرانی والحاکم میں ہے: وعن عمارۃ بن حزم رضی ﷲ تعالى عنه قال رانی رسول ﷲصلی ﷲ تعالى علیه وسلم جالسا علی قبر فقال یا صاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر۔ حضرت عمارہ بن حزم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: اے قبر سے لگنے والے قبر سے اُتر جا، صاحب قبر کو ایذا نہ دے ۔(ت)( ج 4 باب دفن المیّت صفحہ 69 مکتبہ امدادیہ ملتان )۔الفردوس بمأثور الخطاب میں ہے : المیّت یؤذیه فی قبرہ مایؤذیه فی بیته۔ میت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی ہے قبر میں بھی اس سے ایذا پاتا ہے۔(ج1 صفحہ 199حدیث 754 دارالکتب العلمیۃ بیروت)۔فتح القدیر میں ہے: الاتفاق علي أن حرمة المسلم ميتا كحرمته حيا ۔ ترجمہ: اس بات پر اتفاق ہے کہ مردہ مسلمان کی عزت و حرمت زندہ مسلمان کی طرح ہے (ج2 فصل فی الدفن صفحہ 102 مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)۔ردالمحتار میں ہے: لان المیّت یتأذی بما یتاذی به الحی والظاهر انها تحرمیة لانھم نصوا علی المرور فی سکة حادثه فیها حرام فهذا اولی ۔ ترجمہ : اس لیے مردے کو بھی اس چیزسے اذیّت ہوتی ہے جس سے زندے کوا ذیت ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔ اس لیے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نَو پیدا راستے سے گزرنا حرام ہے تو یہ بدرجہ اولیٰ حرام ہوگا ۔(ج1 فصل فی الاستنجا صفحہ229 ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر )۔کنز العمال میں ہے: من اٰذی مسلماً فقد اذانی ومن اذانی فقد اٰذی ﷲ ۔ جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی ا س نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے ﷲ ایذادی۔( ج 16 صفحہ 10مکتبہ بیروت)۔ﷲ عزوجل فرماتا ہے :اِنَّ الَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ لَعَنَهُـمُ اللّـٰهُ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَـهُـمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا" ترجمہ: بیشک جولوگ ﷲ ورسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر ﷲ کی لعنت ہے دینا اور آخرت میں، اور ﷲ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھاہے ۔(پارہ 21 سورہ احزاب آیت 57)۔۔ 

واللہ تعالیٰ اعلم

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ 

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، بنگال، الہند۔

*9/ شوال المکرم 1441ھ* 

*2/ جون 2020 ء*

 *_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_ 

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad