السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت اور اس کا کیا وقت ہے۔
المستفتی : بندئہ خدا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
فتاویٰ رضویہ میں ہے : اس نماز کی بہت فضیلت اور بڑا ثواب، اور اس میں بڑی معافی کی اُمید ہے وہ چار رکعت نفل ہے کہ غیر وقت مکروہ میں ادا کی جائے یعنی صبح صادق کے طلوع ہونے سے آفتاب نکل کر بلند ہونے تک جائز نہیں اور ٹھیک دوپہر کو جائز نہیں، اور جب آفتاب ڈوبنے کے قریب آئے کہ اس پرنگاہ بے تکلف ٹھہرنے لگے اس وقت جائز نہیں، نماز عصر کے فرض پڑھنے کے بعد شام تک جائز نہیں، جس وقت امام خطبہ پڑھ رہا ہو اس وقت جائز نہیں غرض جتنے وقت نفل نماز کی کراہت کے ہیں اُن اوقات سے بچ کر جس وقت چاہے پڑھے اور بہتریہ ہے کہ ظہر سے پہلے پڑھے،کما فی الھندیة عن المضمرات عن المعلی (جیسا کہ ہندیہ میں مضمرات اور معلی کے حوالے سے ہے۔) اور افضل دن جمعہ کا ہے اور اس کا مناسب طریقہ کہ ہمارے ائمہ کرام کے مذہب سے موافق ہے یہ ہے کہ سبحٰنک اللھم پڑھ کر پندرہ ۱۵بار سبحٰن ﷲ والحمد ﷲ ولا الٰہ الا ﷲ وﷲ اکبر پھر الحمد وسورت پڑھ کر یہی کلمہ دس بار پھر رکوع میں تسبیحات رکوع کے بعد دس بار پھر رکوع سے کھڑے ہو کر ربنا ولک الحمد کے بعد دس بار پھر سجدہ میں تسبیحوں کے بعد دس بار پھر سجدہ سے سر اٹھا کر دس بار پھر دوسرے سجدہ میں اسی طرح دس بار، یہ ایک رکعت میں پچھتر بار ہوا، پھر دوسری رکعت کو کھڑا ہو کر الحمد سے پہلے پندرہ بار پھر الحمد وسورت کے بعد دس بار پھر رکوع میں بدستور کہ یہ بھی پچھتر ہوئے، اسی طرح باقی دونوں رکعتوں میں بھی کہ یہ سب مل کر تین سو بار ہوجائیں گے، سورت کا اختیار ہے جو چاہے پڑھے اور بہتریہ کہ پہلی رکعت میں الھٰکم التکاثر دوسری میں والعصر تیسری میں قل ٰیایھا الکٰفرون چوتھی میں قل ھوﷲ، یہ نماز ہر روز پڑھے ورنہ ہر جمعہ ورنہ ہر مہینے ورنہ سال میں ایک بار تو ہو جایا کرے اور نہ ہو تو عمر بھر میں ایک بار تو ہو جائے کہ اس میں بڑی دولت ہے۔( جلد 7/ صفحہ 442)، بہار شریعت جلد اول، حصہ چہارم، صفحہ 688/ میں ہے : اس نماز میں بے انتہا ثواب ہے بعض محققین فرماتے ہیں اس کی بزرگی سن کر ترک نہ کرے گا مگر دین میں سُستی کرنے والا۔نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : ’’اے چچا! کیا میں تم کو عطا نہ کروں،کیا میں تم کو بخشش نہ کروں،کیا میں تم کو نہ دوں تمھارے ساتھ احسان نہ کروں،دس خصلتیں ہیں کہ جب تم کرو تو ﷲ تعالیٰ تمھارے گناہ بخش دے گا۔ اگلا پچھلا پُرانا نیا جو بھول کر کیا اور جو قصداً کیا چھوٹا اور بڑا پوشیدہ اور ظاہر، اس کے بعد صلاۃ التسبیح کی ترکیب تعلیم فرمائی پھر فرمایا: کہ اگر تم سے ہو سکے کہ ہر روز ایک بار پڑھو تو کرو اور اگر روز نہ کرو تو ہر جمعہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو ہر مہینہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو سال میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو عمر میں ایک بار۔‘‘ اور اس کی ترکیب ہمارے طور پر وہ ہے جو سنن ترمذی شریف میں بروایت عبد ﷲ بن مبارک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مذکور ہے، فرماتے ہیں : ﷲ اکبر کہہ کر سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَآ اِلٰـہَ غَیْرُکَ پڑھے پھر یہ پڑھے سُبْحَانَ اللہ وَالْحَمْدُ للہ وَلَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَاللہ اَکْبَرْ پندرہ بار پھر اَعُوْذُ اور بِسْمِ اللہ اور اَلْحَمْد اور سورت پڑھ کر دس بار یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں دس بار پڑھے پھر رکوع سے سر اٹھائے اور بعد تسمیع و تحمید دس بار کہے پھر سجدہ کو جائے اور اس میں دس بار کہے پھر سجدہ سے سر اٹھا کر دس بار کہے پھر سجدہ کو جائے اور اس میں دس مرتبہ پڑھے۔ یوہیں چار رکعت پڑھے ہر رکعت میں ۷۵ بار تسبیح اور چاروں میں تین سو ہوئیں اور رکوع و سجود میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، سبُحْاَنَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہنے کے بعد تسبیحات پڑھے۔( بحوالہ غنیۃ المتملي، صلاۃ التسبیح، ص 431)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند
*1/ ذی القعدہ 1442ھ*
*13/ جون 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

