رقم الفتوی : 533
السلام علیکم ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام اس مسئلے میں کہ ایک خاتون کا نکاح ایک نا مرد کے ساتھ ہوا۔ جس کی خبر 3ماہ کے بعد میں لگی۔ اب وہ طلاق کے بعد عدت کرے گی یا نہیں۔ آپس میں صحبت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوئی ۔لیکن تین ماہ ایک ساتھ راتیں گزاریں
سائل : محمد اشرف رضا۔ ساکن محمدأباد۔ تحصیل حسنپور۔ ضلع امروہہ یوپی
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں اگر خاتون کے ساتھ دخول یا خلوت صحیحہ ہوئی ہو تو اس پر عدت فرض ہے۔اگر دخول یا خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہوں تو اس پر عدت نہیں ہے۔ اور خلوت صحیحہ یہ ہے کہ زوج زوجہ ایک مکان میں جمع ہوں اور کوئی چیز مانع جماع نہ ہو۔یہ خلوت جماع ہی کے حکم میں ہے اور موانع تین ہیں :(1)حسّی (2) شرعی (3) طبعی۔ مانع حسّی جیسے مرض کہ شوہر بیمار ہے تو مطلقاً خلوت صحیحہ نہ ہوگی اور زوجہ بیمار ہو تو اس حد کی بیمار ہو کہ وطی سے ضرر کا اندیشہ صحیح ہو اور ایسی بیماری نہ ہو تو خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ مانع طبعی جیسے وہاں کسی تیسرے کا ہونا، اگرچہ وہ سوتا ہو یا نابینا ہو، یا اس کی دوسری بیوی ہو یا دونوں میں کسی کی باندی ہو، ہاں اگر اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ کسی کے سامنے بیان نہ کر سکے گا تو اس کا ہونا مانع نہیں یعنی خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ مجنون و معتوہ بچہ کے حکم میں ہیں اگر عقل کچھ رکھتے ہیں تو خلوت نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی اور اگر وہ شخص بے ہوشی میں ہے تو خلوت ہو جائے گی۔ اگر وہاں عورت کا کتا ہے تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوگی اور اگر مرد کا ہے اور کٹکھنا ہے جب بھی نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی۔مانع شرعی مثلاً عورت حیض یا نفاس میں ہے یا دونوں میں کوئی مُحرم ہو،احرام فرض کا ہو یا نفل کا، حج کا ہو یا عمرہ کا، یا ان میں کسی کا رمضان کا روزہ ادا ہو یا نمازِ فرض میں ہو، ان سب صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہ ہو گی اور اگر نفل یا نذر یا کفارہ یا قضا کا روزہ ہو یا نفلی نماز ہو تو یہ چیزیں خلوتِ صحیحہ سے مانع نہیں اور اگر دونوں ایک جگہ تنہائی میں جمع ہوئے مگر کوئی مانع شرعی یا طبعی یا حسّی پایا جاتا ہے تو خلوت فاسدہ ہے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی، نہ عدت لازم آئی، نصف مہر دینا ہوگا، درمختار میں ہے : لاعدۃ بخلوۃ الرتقاء۔ ناقابل جماع بیوی کی خلوت پر عدت نہیں ہے۔جامع الرموز میں ہے : لوطلقھا قبل الدخول او بعد الخلوۃ الفاسدۃ والفساد لعجزہ عن الوطی حقیقة لم تجب العدۃ.اھ و انظر ما کتبنا علی رد المحتار۔اگر جماع سے پہلے یا خلوتِ فاسدہ کے بعد طلاق دی ہو اور فساد مثلاً یہ کہ خاوند وطی سے حقیقۃً عاجز ہو تو اس صورت میں عدت لازم نہ ہوگی اھ یہاں رد المحتار پر میرا حاشیہ دیکھو۔ ( جلد 13/ صفحہ 298)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
16/ رجب المرجب 1444ھ
8/ جنوری 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

