تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

ماں اپنے بیٹے کو پوری جائداد ہبہ کر سکتی ہے یا نہیں؟ بیٹیوں کی شادی ہونے کے بعد والدین کی جائداد کا حقدار ہوتی ہے یا نہیں؟

0
ماں اپنے بیٹے کو پوری جائداد ہبہ کر سکتی ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 534


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 


کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلے میں کہ زید کے والد نے ایک مکان خریدا،اور اپنی حیاتی میں، زید کی والدہ کے نام کردیا۔ اور والد کے انتقال کے بعد، زید نے مکان اپنے نام ہبہ کروا لیا اور والدہ نے دستخط بھی کردی۔ 

اسی مکان میں زید نے کچھ دکانیں نکالیں، جس کا کرایہ وہ خود استعمال کرتا ہے۔ 

دو بہنوں کے علاوہ باقی بہنوں سے لا تعلقی اختیار کر لی ہے اور آنے جانے پر پابندی لگا دی ہے، یہاں تک کہ جو بہنوں کا حق ہے کہ عید کے مواقع پر عیدی دی جاتی ہے، وغيره وغيره وہ بھی سب بند کر دیا ہے۔ 


سوال یہ ہے کہ

1

۔ زید کا مکان اپنے نام ہبہ کرانا کیسا ہے؟ جب کہ یہ کام سب کی جانکاری کے بغير، چھپ کر کیا گیا ہو؟ زید اور والدہ پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ 

2

۔ بہنوں کا اس مکان میں حصہ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو زید کے اس طرح ہبہ کرانے پر، اب بہنوں کو حصہ کس طرح مل سکتا ہے؟ 

3

۔ والدہ نے زید کے نام پورا مکان کر دیا، کیا والدہ کا یہ عمل صحیح ہے؟ کیا والدہ کا دستخط کرنا صحیح ہے؟ والدہ کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ 

4

۔  مکان میں دکانوں پر کیا صرف زید کا حق ہے؟ اور ملنے والے کرایے پر کیا زید کا ہی حق ہے؟ زید کا کہنا کہ دکان میری ہے جبکہ وہ اسی مکان میں نکالی گئی ہے جو والدہ کے نام ہے، تو زید کا کہنا کہ دکان میری ہے، صحیح ہے؟  ( ہبہ کرانے سے پہلے ) 

5

۔ گاؤں میں یہ بات مانی جاتی ہے کہ جس مکان میں بیٹا ماں کے ساتھ رہتا ہے، اس میں کسی کا حق نہیں ہوتا، صرف بیٹے کا حق ہوتا ہے، یہاں تک کہ بیٹیوں کا بھی کوئی حق نہیں ہوتا کیونکہ ان کی شادی کر کے دے دیا گیا، وہی ان کا حق تھا۔ تو کیا اس طرح سمجھنا اور کرنا صحیح ہے؟ اور اگر کوئی اس طرح کرے تو اس پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ 


برائے مہربانی یہ بتائیں کہ ان تمام معاملات میں زید، اور والدہ کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے اور بیٹیوں کو ان کا حق ملنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ 


برائے مہربانی، قرآن و سنت کی روشنی میں، شریعت کا حکم کیا ہوگا، جوابات عنایت فرمائیں ۔


جزاك الله خيرا كثيرا


المستفتی۔۔۔محمد حمزہ ساؤت افریقہ

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ: ماں کو جس طرح یہ حق حاصل ہے کہ اپنی مملوکہ اشیا کو فروخت کر کے اپنی ذاتی مصرف میں خرچ کرے یا اپنے اشیا مملوکہ کسی اجنبی کو ہبہ کر دے اسی طرح ان کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اپنی کل یا بعض املاک اپنی اولاد کو ہبہ کردے۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : رجل قال : جعلت ھذا لولدی فلان کانت ھبة۔ترجمہ : کسی شخص نے کہا کہ میں نے یہ چیز فلاں بیٹے کے لئے کر دی تو یہ ہبہ ہو گیا ۔(ج 4/کتاب الھبۃ، باب فی تفسیر ھا و رکنھا و شرائطھا،صفحہ 375) ۔اسی میں ہے : قوله ھذہ الدار لک أو ھذہ الارض لک ھبة لا اقرار کذا فی القنیة.۔ترجمہ : اس کا قول : یہ گھر تیرا ہے یا یہ زمین تیری ہے یہ قول ہبہ ہے۔اقرار نہیں،یہ قنیۃ میں ہے ۔(ج 4/کتاب الھبۃ، باب فی تفسیر ھا و رکنھا و شرائطھا،صفحہ 375)۔بالغ اولاد کو ہبہ کرے تو قبول و قبضہ بھی ضروری ہے۔لہذا اگر بالغ لڑکا نے قبول و قبضہ نہیں کیا تو ہبہ تمام نہ ہوگا۔اور موہوب لہ اس کا مالک بھی نہ ہوگا۔اس میں میراث جاری ہو گی۔اسی میں ہے : والقبول شرط ثبوت الملک للموھوب له۔ترجمہ : موہوب لہ کا قبول کرنا یہ اس کے ملک ثابت کرنے لئے شرط ہے۔(ج 4/کتاب الھبۃ، باب فی تفسیر ھا و رکنھا و شرائطھا،صفحہ385)۔اسی میں ہے: ولا یتم حکم الھبة الا مقبوضة یستوی فیه الاجنبی و الولد اذا کان بالغا۔ترجمہ : ہبہ کا حکم قبضہ کے بغیر تام نہیں ہوتا ،اس میں اجنبی اور اولاد دونوں برار ہیں جبکہ وہ بالغ ہوں ،اسی طرح محیط میں ہے ۔(ج4/کتاب الہبۃ ،الباب الثانی فیما یجوز من الہبۃ و ما لا یجوز،صفحہ 377)

شرع کا حکم تو یہ ہے کہ باپ ماں اپنے مال کا مالک ہے۔حالت صحت میں اگر وہ اپنا سارا مال ایک ہی لڑکا کو دیدے اور دوسروں کو کچھ نہ دے تو یہ کر سکتا ہے مگر ایسا کرنے میں گنہگار ہوگا۔اسی میں ہے : رجل وھب فی صحته کل المال للولد جاز فی القضاء و یکون آثما فیما صنع کذا فی فتاویٰ قاضی خان۔ترجمہ : ایک شخص نے اپنی صحت میں کل مال اپنے ایک بیٹے کو ہبہ کر دیا یہ قضاء ًجائز ہے ۔لیکن وہ شخص اپنے اس فعل سے گنہگار ہو گا ۔یہ فتاوی قاضی خان میں ہے۔( ج 4/کتاب الھبۃ ،الباب السادس، فی الھبۃ للصغیر، 391۔)

لہذا صورت مسئولہ میں ماں نے اپنے بالغ لڑکا کو مکان یا زمین دیدی اور ان کی زندگی میں لڑکا اس پر قابض ہوگیا تو وہ لڑکا کی ملکیت ہے بہنوں کی کوئی ملکیت نہیں، اور نہ ہی اس میں وارثت جاری ہوگی،بہنوں کو مطالبہ کا کوئی حق نہیں۔جس طرح لڑکی کو زیورات و جہیز وغیرہ دیکر اس کی شادی کردی تو یہ سب لڑکی کی ملکیت ہے باپ ماں کی ملکیت میں شامل نہ ہوگا۔

(ا)

 گاؤں والوں کی یہ سب باتیں ماننا شرع کے خلاف ہے کیونکہ شرع نے ہر کسی کا حق مقرر رکھا ہے گاؤں والوں پر ضروری ہے کہ جو قرآن و حدیث کا حکم ہو وہ مانے، جو شرع کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیں۔ بیٹا بیٹی کا حصہ قرآن مجید میں موجود ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4  سورہ نساء آیت11)سراجی میں ہے : واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ والثلثان للاثنین فصاعدۃ. ومع الإبن للذكر مثل حظ الانثيين. وهو يعصبهن. (سراجی ص 21)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

8/ جمادی الثانی 1444ھ

1/ جنوری 2022ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad