تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

امام صاحب کا مسجد میں سونا جائز ہے یا نہیں؟

0
امام صاحب کا مسجد میں سونا جائز ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 535




السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

علماء کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں مسئلہ

کیا مسجد میں سو سکتے ہیں ہمارے یہاں کے امام صاحب مسجد میں سو تیویں جب کہ ان کو رہنے کا مکان دیا گیا ہے مکان ایک کلومیٹر دوری کی وجہ سے امام صاحب کہتے ہیں کی فجر کے وقت آنے میں تکلیف ہوتی ہے اس لیے میں مسجد میں سو تا ہوں کیا یہ درست ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی جلد سے جلد


سائل : تبارک رضا گجرات سے

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب : صورت مسئولہ میں امام صاحب کا مسجد میں سونا جائز ہے جبکہ اعتکاف کی نیت کرے۔البتہ مسجد میں سونا اس وقت ناجائز ہے جبکہ مسجد میں سونے سے مسجد چوپال ہو جائے گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی اور جس سے اس کی تلویث ہو مطلقاً ناجائز ہے اگر چہ معتکف ہو۔لہذا اگر مسجد میں ان تمام باتیں نہ پائی جائے تو معتکف کو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے ورنہ نا جائز ہے۔رد المحتار میں ہے : "اذا اراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيذكر الله تعالى بقدر ما نوي أو يصلي ثم يفعل ما شاء" ترجمہ: جب ارادہ کرے کھانے پینے کا تو اعتکاف کی نیت کرے پھر مسجد میں داخل ہو جائے پس اللہ تعالی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نماز پڑھے پھر وہاں جو چاہے کرے( ج 3/ کتاب الصوم، باب الاعتکاف، صفحہ 440)ردالمحتار میں ہے : "الظاهر ان مثل النوم الاكل والشرب اذا لم يشغل المسجد ولم يلوثه لان تنظيفه واجب كما مر" ترجمہ: ظاہر یہی ہے کہ کھانا پینا جبکہ مسجد کو ملوث نہ کرے اور نہ مسجد کو مشغول رہے تو یہ سونے کی طرح ہے کیونکہ مسجد کی نظافت کا خیال نہایت ہی ضروری ہے جیساکہ گزرا۔(ج 3/کتاب الصوم، باب الاعتکاف، صفحہ441)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : مسجد میں معتکف کو سونا تو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور اس کے غیر کے لئے ہمارے علماء کے تین(۳) قول ہیں : اول یہ کہ مطلقاً صرف خلاف اولیٰ ہے۔دوم مسافر کو جائز ہے اس کے غیر کو منع۔سوم معتکف کے سوا کسی کو جائز نہیں۔اور ہمیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہاں ایک ضابطہ کلیہ فرمایا ہے جس سے ان سب جزئیات کا حکم صاف ہو جاتا ہے فرماتے ہیں رسول ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : من سمع رجلا ینشد ضالة فی المسجد فلیقل لاردھا ﷲ علیک فان المساجد لم تبن لھٰذا۔ جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس سے کہے ﷲ تیری گمی چیز تحجھے نہ ملائیے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں۔اسی حدیث کی دوسری روایت میں ہے : اذا رأیتم من یتباع فی المسجد فقولوا لا اربح ﷲ تجارتک۔جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے دیکھو تو کہو ﷲ تیرے سودے میں فائدہ نہ دے۔اور ظاہر ہے کہ مسجدیں سونے۔ کھانے پینے کو نہیں بنیں تو غیر معتکف کو اُن میں ان افعال کی اجازت نہیں اور بلاشبہ اگر ان افعال کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب و ہیبت سے عاری، مسجدیں چو پال ہوجائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی وکل ما ادی الی محظور محظور (ہر وہ شخص جو ممنوع تک پہنچائے ممنوع ہوجاتی ہے۔) جو بخیالِ تہجّد یا جماعتِ صبح مسجد میں سونا چاہے تو اسے کیا مشکل ہے اعتکاف کی نیت کرلے کچھ حرج نہیں، کچھ تکلیف نہیں،ایک عبارت بڑھتی ہے۔ اور سونا بالاتفاق جائز ہوا جاتا ہے(جلد 8 صفحہ 94)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

19/ ذی الحجہ 1444ھ

8/ جولائی 2023ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_



Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad