تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

نل کنواں وضو خانہ اور مساجد لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟

0
نل کنواں وضو خانہ اور مساجد لینا جائز ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 553


کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ آج کل فلسطین بیت المقدس بغداد ان جگہوں سے نل کنواں وضو خانہ وغیرہ ہمارے بہار بنگال کے لوگوں کو دیۓ جاتے ہیں بعض اہلسنت والجماعت کی مساجد میں بھی دے جاتے ہیں تو ایسے وضو خانے میں وضو کرنا کیسا مدلل جواب سے نوازیں کرم ہوگا  

 

سائل : محمد ثقلین رضا چھ مٹیا طیب پور کشن گنج بہار

..............................................................

الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر دینے والے کے عقائد اہل سنت وجماعت کے خلاف ہو اور لینے والے کو ان کے عقائد معلوم ہو تو ان سے نل کنواں وضو خانہ لینا جائز نہیں اور اس سے وضو کرنا بھی جائز نہیں۔ اور اگر لے لیا ہو تو بعد معلوم واپس کر دے،بعینہ اگر دینے والے کے عقائد اہل سنت وجماعت کے خلاف نہ ہو یا وہاں کے گورنمنٹ کی طرف سے ہو تو لے سکتے ہیں۔کوئی حرج نہیں۔مسلم شریف میں ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ترجمہ: تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ ( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10)جامع الاحادیث الجامع الصغیر وزوائدہ والجامع الکبیر میں ہے : قال النبي صلى الله عليه وسلم فلاتؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولاتجالسوهم ولاتصلواعليهم ولا تصلوا معهم۔ ترجمہ: نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو،نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو، نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو۔ ( جلد 2 صفحہ 466 )۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

4/ ربیع الاول 1445ھ

20/ ستمبر 2023ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad