تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

مومن گناہ کے سبب کافر ہوگا یا نہیں؟ غیر سے زنا کرنے کا کیا حکم ہے؟

0
مومن گناہ کے سبب کافر ہوگا یا نہیں؟

رقم الفتوی : 554



السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی مسلمان لڑکی ہندو سے زنا کی تو کیا وہ کافر ہو گئی.  

سائل : حافظ عبدالسبحان نظامی گورکھپور یوپی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : مسلمان لڑکی کا ہندو سے ناجائز تعلقات رکھنا اور زنا کرنا سخت ناجائز و حرام ہے۔اور مسلمان لڑکی زنا کے سبب گناہگار ہوئے۔ اگر حکومت اسلامیہ ہوتی تو ان کو بہت کڑی سزا دی جاتی۔ موجودہ صورت میں حکم یہ ہے کہ ان کو علانیہ توبہ واستغفار کرایا جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے : وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ وَ سَآءَ سَبِيْلًا۔ ترجمہ : زنا کے قریب نہ جاؤ کہ وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔( سورہ بنی اسرائیل آیت 32)۔

البتہ یاد رہے کہ اہلِ سنت وجماعت کا اِجماع ہے کہ مومن کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا۔شرح عقائدِ نَسْفِیَہ میں ہے : نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے سے لے کر آج تک امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اہلِ قبلہ میں سے جو شخص بغیر توبہ کے مر گیا تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے لئے دعا و اِستغفار بھی کی جائے گی اگرچہ اس کا گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہونا معلوم ہو حالانکہ اس بات پر پہلے ہی امت کا اتفاق ہے کہ مومن کے علاوہ کسی اور کے لئے نمازِ جنازہ اور دعا ء و استغفار جائز نہیں۔( مبحث الکبیرۃ، صفحہ 110)۔شرح فِقہِ اکبر میں ہے : ہم خارجیوں کی طرح کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کریں گے اگرچہ وہ گناہِ کبیرہ ہو البتہ اگر وہ کسی ایسے گناہ کو حلال جانے جس کی حرمت قطعی دلیل سے ثابت ہو تو وہ کافر ہے، اور ہم معتزلہ کی طرح کسی کبیرہ گناہ کرنے والے سے ایمان کاوصف ساقط نہیں کریں گے اور کبیرہ گناہ کرنے والے کو حقیقی مومن کہیں گے کیونکہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک ایمان دل سے تصدیق کرنے اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ہے جبکہ عمل کا تعلق کمالِ ایمان سے ہے ۔( الکبیرۃ لا تخرج المؤمن عن الایمان، صفحہ 74/71)فتاویٰ رضویہ میں ہے : آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرِ خدا کو معبود یا مُستَقِل بِالذّات وواجب الوجود نہ جانے۔ بعض نصوص میں بعض افعال پر اطلاقِ شرک تَشبیہاًیا تَغلیظاً یا بارادہ و مقارنت باعتقاد منافی توحید وامثال ذلک من التاویلات المعروفۃ بین العلماء وارد ہوا ہے، جیسے کفر نہیں مگر انکارِ ضروریاتِ دین اگرچہ ایسی ہی تاویلات سے بعض اعمال پر اطلاقِ کفر آیا ہے یہاں ہر گز علی الاطلاق شرک وکفر مصطلح علم عقائد کہ آدمی کو اسلام سے خارج کردیں اور بے توبہ مغفور نہ ہوں زنہار مراد نہیں کہ یہ عقیدۂ اجماعیۂ اہلسنّت کے خلاف ہے، ہر شرک کفر ہے اور کفر مزیلِ اسلام، اور اہلسنّت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ایسی جگہ نصوص کو علی اطلاقہا کفر وشرک مصطلح پر حمل کرنا اشقیائے خوارج کا مذہب مطرود ہے۔(جلد 21/ صفحہ 131)۔

لہذا صورت مسئولہ میں گناہ کبیرہ کے مرتکبہ ہونے کی وجہ سے کافرہ نہیں ہوئی۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

5/ ربیع الاول 1445ھ

21/ ستمبر 2023ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad