رقم الفتوی : 555
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ خطبۂ جمعہ عربی کے علاوہ دیگر زبانوں میں پڑھنا کیسا ہے اور جو اذانِ ثانی خطبے سے قبل ہوتی ہے، کیا بغیر اذانِ ثانی کے ڈایریکٹ خطبہ (عربی و دیگر زبان میں مِکس) پڑھ لینے سے نمازِ جمعہ ہوگی یا نہیں اور بات یہ بھی ہے کہ نماز حنفی طریقے سے پڑھتے ہیں اور خود کو اہلسنّت وجماعت کہتے ہیں لیکن امام بغیر ٹوپی کے نماز پڑھاتے ہیں اور سورہ فاتحہ کے بعد بلند آواز سے آمین بھی کہتے ہیں ایسے میں جماعت میں شریک ہوکر نماز پڑھنا کیسا ہے نماز ہوگی یا ظہر کی نماز ادا کرنا صحیح رہے گا برائے کرم تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں
سائل:- شمیم احمد رضوی مقیم حال مالدیپ
...................................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : غیر عربی میں خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ دوسری زبان خطبہ میں خلط کرنا خلاف سنت متوارثہ ہے۔ یوہیں خطبہ میں اشعار پڑھنا بھی نہ چاہیے اگرچہ عربی ہی کے ہوں، ہاں دو ایک شعر پندونصائح کے اگر کبھی پڑھ لے تو حرج نہیں۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : خطبہ خود وعظ وپند ہے مگر اس میں غیر عربی زبان کا خلط مکروہ وخلاف سنتِ متوارثہ ہے اگر چہ نفس فرض خطبہ خالص دوسری زبان سے ادا ہوجائے گا صحابہ کرام نے عجم کے ہزاروں شہر فتح فرمائے اور ان میں منبر نصب کئے اور خطبے پڑھے اور ان کی زبانیں جانتے تھے ان سے گفتگو کرتے تھے مگر کبھی منقول نہیں کہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں خطبہ فرمایا یا غیر زبان کو ملایا۔( جلد 8/ صفحہ 466)۔
(ا)
بغیر اذانِ ثانی کے ڈایریکٹ خطبہ پڑھنا خلاف سنت متوارثہ ہے لہذا دونوں صورتوں میں نماز ہو جائے گی۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے : عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں۔اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو، اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔( جلد 5/ صفحہ 90)۔
( ب)
نماز پڑھتے کے وقت سر کو عمامہ شریف یا کم سے کم ٹوپی سے ڈھانپنا چاہئے،سُستی کاہلی کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔ البتہ اگر واقعی کوئی ایسا ہے کہ جسے برہنہ سر نماز پڑھنے میں خشوع نصیب ہوتا ہو اور عمامہ یا ٹوپی پہننے سے خشوع نہ آتا ہو تو اس کے لئے برہنہ سر نماز پڑھنا بہتر ہے۔
( ج)
ولا الضالين کے بعد امام اور مقتدی کو آمین کہنا سنت ہے آہستہ سے، لیکن امام کا آمین بآوازِ بلند کہنا نماز میں مکروہ خلاف سنت ہے ( مکروہ تنزیہی ) ہاں اگر زبان سے نکل جائے تب بھی آمین سے سجدہ سہو واجب نہیں۔ قرآن مجید میں ہے: اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً. ترجمہ: تم اپنے رب کو عاجزی اور تواضع سے آہستہ آہستہ پکارو۔ ( سورہ اعراف آیت 55)سنن نسائی میں ہے : عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين سورة الفاتحة آية،فقولوا: آمين فإن الملائكة تقول آمين وإن الإمام يقول آمين فمن وافق تامينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه". ( کتاب الافتتاح، باب جہر الامام بآمین ) فتاویٰ رضویہ میں ہے :نماز کی ہر رکعت میں امام و منفرد کو ولا الضالین کے بعد آمین کہنا سنت ہے۔جہری نماز میں مقتدی بھی ہر رکعت میں کہیں اور غیر جہری رکعت یا سری نماز میں ولا الضالین ایسی خفی آواز میں کہا کہ اس کے کان تک پہنچی تو اس وقت بھی یہ آمین کہے ورنہ نہیں اور آمین سے سجدہ سہو کسی وقت نہیں( جلد 6 صفحہ 202)۔
لہذا صورت مسئولہ میں جمعہ کی نماز ہو جائے گی مگر بہتر یہ ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے احتیاط کرے۔
۔وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
9/ محرم الحرام 1445ھ
28/ جولائی 2023ء

